LIVE
Loading Breaking News...

روسی حملے اور امریکی سفارت کاری پر تنقید

News Image
روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کییف پر تازہ حملے کیے گئے ہیں جو کہ ایک اعلیٰ سطحی امریکی دورے کے فورا بعد سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال کے بعد بین الاقوامی سطح پر امریکی سفارت کاری کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں ایک نئے تنازع نے اس وقت جنم لیا جب ماسکو میں ہونے والے اہم سفارتی رابطوں کے فورا بعد روس نے یوکرین کے دارالحکومت کییف پر شدید فضائی اور زمینی حملے شروع کر دیے۔ اس اچانک کشیدگی نے دنیا بھر کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور جنگ بندی کی کوششوں کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، وٹکوف اور کشنر کا دورہ ماسکو ابھی ختم ہی ہوا تھا کہ اس کے ردعمل میں روسی عسکری قوت نے یوکرین پر یلغار کو مزید تیز کر دیا۔ اس صورتحال نے بائیڈن انتظامیہ اور متعلقہ امریکی سفارتی حلقوں کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، اور ماہرین کی جانب سے موجودہ سفارتی کوششوں کی تاثیر پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اعلیٰ سطحی دوروں کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی بہتری نہیں آئی، بلکہ تنازع مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے جس سے خطے میں انسانی بحران کے سنگینتر ہونے کا خدشہ ہے۔ یوکرین کے حکام نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کے خلاف سخت ترین اقدامات کرے تاکہ عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب، امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک اس پیش رفت کے بعد اپنی آئندہ کی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ماسکو پر دباؤ بڑھانے کے لیے کوئی نیا لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ یہ تمام صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ موجودہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے روایتی سفارتی راستے فی الحال موثر ثابت نہیں ہو رہے اور فریقین کے درمیان خلیج مزید چوڑی ہوتی جا رہی ہے۔