Politics
صدر اردوغان کا خصوصی انٹرویو: جدید ترکی اور خارجہ پالیسی
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ایک خصوصی انٹرویو میں ملک کی خارجہ پالیسی اور علاقائی تنازعات پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے اے کے پارٹی کی پچیس سالہ حکمرانی اور جدید ترکی کی تشکیل کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کیا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے حالیہ دنوں میں ایک اہم انٹرویو کے دوران ملک کی خارجہ پالیسی، علاقائی تنازعات اور جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) کی پچیس سالہ حکمرانی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر اور جدید ترکی کی تشکیل کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ان چیلنجز کا ذکر کیا جن کا سامنا ملک کو گزشتہ دو دہائیوں میں کرنا پڑا۔ صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ ترکی کے مفادات کو مقدم رکھا ہے اور اندرونی و بیرونی محاذ پر ملک کو ایک مضبوط ریاست کے طور پر ابھارا ہے۔ انٹرویو کے دوران علاقائی تنازعات اور عالمی سیاست پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی، جہاں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور خودمختار پالیسیوں کو سراہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکی خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے قومی مفادات کو ترجیح دی جائے گی۔ اے کے پارٹی کی پچیس سالہ تاریخ کے حوالے سے صدر اردوغان نے کہا کہ اس طویل عرصے میں ملک کے انفراسٹرکچر، معیشت، دفاعی صلاحیت اور صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لائی گئی ہیں، جس نے عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنایا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، صدر اردوغان کا یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکی کو خطے میں متعدد پیچیدہ سفارتی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، اور ان کی قیادت میں ملک کی یہ نئی سمت عالمی سطح پر خصوصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔