LIVE
Loading Breaking News...

فلپائن فیری آگ حادثہ: ہلاکتیں بڑھ کر 35 ہو گئیں

News Image
فلپائن میں بدھ کے روز پیش آنے والے فیری میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے کے بعد امدادی کارروائیوں کے دوران مزید لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔ اس تازہ ترین اضافے کے بعد حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد بڑھ کر پینتیس تک پہنچ گئی ہے۔
فلپائن کے سمندر میں بدھ کے روز پیش آنے والے ایک افسوسناک بحری حادثے کے دوران فیری میں لگنے والی آگ سے مرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکام اور ریسکیو ذرائع کے مطابق، جائے وقوعہ سے مزید لاشیں برآمد ہونے کے بعد اس خوفناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد پینتیس ہو گئی ہے۔ اس سے قبل حادثے کے فورا بعد ابتدائی طور پر صرف پانچ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی تھی، جس کے بعد ریسکیو اور کوسٹ گارڈ کے اہلکار مسلسل لاپتہ مسافروں کی تلاش میں مصروف تھے۔ فلپائن کے کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین بیان میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کے روز رونما ہونے والی اس تباہی کے بعد سرچ اور ریسکیو آپریشنز کو انتہائی تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔ تلاشی کی کارروائیوں کے دوران ٹیموں نے مزید تیس لاشیں سمندر اور جلے ہوئے بحری جہاز کے ملبے سے نکال لیں۔ حکام کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں لاشیں ملنے سے علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہے جبکہ لواحقین اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے شدید پریشانی کے عالم میں امدادی کیمپوں اور متعلقہ اداروں کے دفاتر کا رخ کر رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ بدھ کے روز پیش آیا تھا جب فیری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے جہاز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مسافروں کو جان بچانے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بہت سے افراد نے سمندر میں چھلانگ لگا کر اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔ کوسٹ گارڈ اور دیگر میری ٹائم ایجنسیوں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کیا تھا جو کہ اب بھی کسی حد تک جاری ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی شخص لاپتہ نہ رہے اور تمام متاثرہ افراد کو مناسب طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ ححام کی جانب سے اس بات کا بھی اعلان کیا گیا ہے کہ اس پورے سانحے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ حادثے کے اصل اسباب کا تعین کیا جا سکے اور ذمہ داروں کا احتساب ممکن بنایا جا سکے۔ سمندری سفر کی حفاظت کے حوالے سے ملک میں ایک بار پھر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ مسافر بردار کشتیوں اور فیریز میں حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے المناک انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔