World
برطانیہ میں پرو فلسطین آوازوں کے بینک اکاؤنٹس بند، شدید تشویش کا اظہار
برطانیہ میں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والی نمایاں شخصیات اور اداروں کے بینک اکاؤنٹس اچانک بند کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ متاثرہ افراد اور سیاستدانوں نے اس اقدام کو ظلم اور جبر کا آلہ قرار دیا ہے۔
برطانیہ میں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والی متعدد سرکردہ شخصیات اور اداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں منظم طریقے سے مالیاتی نظام سے باہر کیا جا رہا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، فلسطین ایکشن کے ایک قیدی کی والدہ، معروف برطانوی سیاستدان جارج گیلوے اور بائیں بازو کے ایک خبر رساں ادارے سمیت کئی دیگر اہم ناموں کو اسکول آف اپریشن یعنی ظلم کے آلے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ بینکوں کی جانب سے بغیر کسی واضح وجہ کے ان کے اکاؤنٹس منجمد یا بند کیے جا رہے ہیں جو کہ بنیادی انسانی حقوق اور آزادیِ اظہارِ رائے پر براہ راست حملہ ہے۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں فلسطینی کاز کی حمایت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے اسرائیل کی غزہ میں پالیسیوں کے خلاف آوازیں بلند کی جا رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے فلسطین کے حامیوں کو مالی طور پر کمزور کرنے اور ان کا منہ بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ مغربی جمہوریت کے دعوؤں کے بالکل منافی ہے۔ اس صورتحال پر مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ برطانوی حکومت فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے اور مالیاتی اداروں کی جانب سے بلاجواز اکاؤنٹ بند کرنے کے اس عمل کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں تاکہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔