World
ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات
ایران نے تصدیق کی ہے کہ وہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر پیر کے روز عمان میں اہم مذاکرات کرے گا۔ ان مذاکرات کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ پر جاری کشیدگی کو کم کرنا اور جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔
تہران: ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حساس معاملے پر آئندہ پیر کے روز عمان میں اہم مذاکرات کرے گا۔ یہ قدم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری جہازوں کو درپیش خطرات کے تناظر میں اٹھایا جا رہا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز جو کہ دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے، حالیہ دنوں میں شدید دباؤ کا شکار رہی ہے اور وہاں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث جہاز رانی کی ٹریفک سنگل ڈیجٹ تک گر چکی ہے، جس سے عالمی منڈی میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اسی پس منظر میں فریقین کے درمیان یہ ملاقات خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش قرار دی جا رہی ہے تاکہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو دوبارہ معمول پر لایا جا سکے اور خطے کو کسی بھی بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مذاکراتی عمل میں عمان اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے روایتی طور پر سفارتی کوششیں کرتا رہا ہے۔ اگرچہ اس بات چیت کے ایجنڈے کے بارے میں باضابطہ طور پر زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ بحری سلامتی، جہازوں کی حفاظت اور تنازعات کے پرامن حل پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ پیر کے روز ہونے والے ان مذاکرات کے نتائج کا عالمی توانائی منڈیوں اور خطے کی سلامتی پر گہرا اثر پڑنے کی توقع ہے۔