LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کی امریکہ اور ایران مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں

News Image
اقوام متحدہ میں پاکستانی حکام نے امریکہ اور ایران کے مابین موجودہ تنازعہ اور عدم اعتماد کے باوجود بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے۔ اس سفارتی کوشش کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنا اور امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوبین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ بداعتمادی اور تناؤ کو ختم کرانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کی بحالی اس وقت خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑی جنگ یا بحران سے بچا جا سکے۔ علاقائی مبصرین کے مطابق، پاکستان کی یہ سفارتی کاوشیں اس وقت سامنے آئی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں حوثی اور سعودی عرب کے تنازعات سمیت دیگر امور پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب، تہران میں بھی ایرانی حکام نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعاون اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور تمام فریقین کو بات چیت اور سفارتکاری کا راستہ اپنانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاسوں میں بھی ایران کے جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جس میں پاکستان نے امن کے حق میں کھل کر بات کی ہے۔ خطے کے بدلتے ہوئے حالات میں پاکستان کی یہ ذمہ دارانہ سفارتی پالیسی عالمی سطح پر بھی سراہی جا رہی ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے تو اس سے نہ صرف خلیجی خطے بلکہ پوری دنیا میں امن کی فضا قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ حکومتِ پاکستان تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کو روکا جا سکے اور خطے کو طویل مدتی استحکام کی طرف گامزن کیا جا سکے۔