World
جے ڈی وینس کا ایران تنازع پر امریکی جنرلز سے رابطہ
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مبینہ طور پر ایران کے ساتھ جاری تنازع کی حقیقی صورتحال جاننے کے لیے امریکی فوجی جنرلز سے براہ راست انٹیلی جنس معلومات طلب کی ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے پس پردہ غیر مبہم اور براہ راست آراء جمع کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ زمینی حقائق کا اندازہ لگایا جا سکے۔
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہوں نے پس پردہ ہونے والی ملاقاتوں میں ایران کے ساتھ جاری تنازع کی حقیقی اور زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے امریکی فوجی جنرلز سے براہ راست انٹیلی جنس معلومات طلب کی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ اس تنازع کے حوالے سے حاصل ہونے والی روایتی اطلاعات سے ہٹ کر ایک غیر مبہم اور کھلی تصویر دیکھنا چاہتے تھے، تاکہ امریکی عسکری تیاریوں اور حکمت عملی کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق اس عمل کا مقصد اعلیٰ سطحی عسکری حکام سے براہ راست سننا تھا کہ زمینی سطح پر کیا کچھ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب اس تنازع کے دوران دونوں فریقین کو درپیش ہتھیاروں کے ذخائر اور اسلحے کی سطح پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ طویل عرصے سے جاری اس کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کی وجہ سے امریکہ اور ایران دونوں کو اپنے دفاعی وسائل اور گولہ بارود کی محدود ہوتی ہوئی سطح کا سامنا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا اس کشیدگی کو باقاعدہ جنگ کا نام دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس تنازع کو باقاعدہ 'جنگ' نہیں کہیں گے، جو کہ بائیڈن یا سابقہ روایتی اصطلاحات سے ہٹ کر ایک مختلف مؤقف کو ظاہر کرتا ہے۔
اس صورتحال نے واشنگٹن کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں ایک طرف انتظامیہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑی ہے، وہیں دوسری طرف بعض رہنما صورتحال کے دور رس نتائج اور طویل مدتی اثرات کے بارے میں محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی براہ راست بریفنگز کا مقصد پالیسی سازوں کو زمینی حقائق سے باخبر رکھنا ہے تاکہ کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے تمام عسکری اور تزویراتی پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے۔