Business
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت اور افراط زر کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
عالمی منڈی میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے تنازعات کے اثرات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اور تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت طویل عرصے کے بعد پہلی بار سو ڈالر فی بیرل کی اہم سطح سے اوپر چلی گئی ہے۔ اس اچانک اضافے کی بنیادی وجہ خطے میں حالیہ فضائی اور زمینی حملے ہیں جن کی وجہ سے رس رسد کے متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ تاجر اور سرمایہ کار خطے میں جاری تنازع کے طویل مدتی اثرات کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں جس کی وجہ سے توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی اور حوثی تنازعات سمیت دیگر بحرانوں نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے جس کے نتیجے میں توانائی کی فراہمی کے بحران کا خطرہ سر اٹھا رہا ہے۔ دوسری طرف اس معاشی دباؤ کے اثرات صرف تیل کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کا اثر اسٹاک مارکیٹس پر بھی پڑا ہے۔ وال اسٹریٹ پر ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں کمی دیکھی گئی جبکہ امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی افراط زر کے خدشات نے سرمایہ کاروں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ تجارتی حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے کہ اگر یہ صورتحال مزید کچھ عرصہ برقرار رہی تو اس سے دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے جو کہ پہلے سے کمزور ہوتی ہوئی عالمی معیشت کو مزید نقصان پہنچائے گی۔ مرکزی بینکوں کے لیے بھی اس بڑھتی ہوئی افراط زر کو قابو میں رکھنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔