LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں سرروگیٹ مدر کی بچوں کی تحویل کی جنگ سپریم کورٹ میں

News Image
ایک سرروگیٹ مدر نے دل کے عارضے کے باوجود بچے کو جنم دینے کا فیصلہ کیا اور اب قانونی جنگ کے لیے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ اس خاتون نے ایسے ریاست کا رخ کیا جہاں اسقاط حمل پر قانونی پابندی عائد ہے۔
امریکہ میں سرروگیسی کے ایک پیچیدہ اور سنسنی خیز قانونی تنازع نے اس وقت نیا موڑ لے لیا جب ایک سرروگیٹ مدر نے بچے کی تحویل حاصل کرنے کے لیے ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔ اس کیس نے قانونی اور اخلاقی حلقوں میں نئی بحث چھوٹی ہے کیونکہ یہ معاملہ محض ایک معاہدے کی خلافورزی تک محدود نہیں بلکہ اسقاط حمل کے قوانین اور پیدائشی حقوق سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، حاملہ خاتون نے بچے میں دل کے ممکنہ عارضے یا نقائص کی تشخیص کے باوجود اسقاط حمل کرانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ طبی ماہرین کی طرف سے تشویش ظاہر کیے جانے کے باوجود، خاتون نے اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے اس ریاست کا سفر کیا جہاں اسقاط حمل پر سخت قانونی پابندیاں عائد ہیں، اور بالآخر ایک صحت مند بچے کو جنم دیا۔ بچے کی پیدائش کے بعد اب اس سرروگیٹ مدر نے قانونی طور پر بچے کی تحویل حاصل کرنے کی جنگ شروع کر دی ہے۔ اس نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ اس نے بچے کی پیدائش میں ذاتی طور پر خط مول لیا ہے اور اسے دنیا میں لائی ہے، اس لیے اس کے بنیادی حقوق کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ یہ معاملہ امریکی عدالتی نظام میں انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ اس کے فیصلے سے آئندہ آنے والے سرروگیسی معاہدوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ امریکی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا جو اس بات کا تعین کرے گا کہ سرروگیسی کے معاہدوں میں فریقین کے حقوق کی حدود کیا ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کی نگاہیں امریکی سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ اس اخلاقی اور قانونی الجھن پر کیا تاریخی فیصلہ صادر کرتی ہے۔