World
ویکسین نقصان اسکیم: انتظامی اخراجات متاثرین کے معاوضے سے زیادہ
نئی رپورٹ کے مطابق ویکسین سے نقصان کی اسکیم کے انتظامی اور طبی معائنے کے اخراجات تراسی ملین پاؤنڈ سے تجاوز کر گئے ہیں۔ یہ اخراجات اصل متاثرین کو تقسیم کی جانے والی کل رقم سے دو گنا سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں۔
برطانیہ میں سامنے آنے والے نئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ویکسین سے نقصان کے معاوضے کی اسکیم کو چلانے کے انتظامی اخراجات اور طبی معائنوں کی لاگت میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اس اسکیم کے انتظامی اور طبی جانچ پڑتال کے مجموعی اخراجات تراسی ملین پاؤنڈ کی حد کو پار کر چکے ہیں۔ یہ صورتحال اس اسکیم کی شفافیت اور کارکردگی پر اہم سوالات اٹھا رہی ہے کیونکہ اس پر خرچ ہونے والی رقم متاثرین کو براہ راست ملنے والے معاوضے کی مقدار سے دگنا ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی فلاحی یا امدادی اسکیم میں انتظامی اخراجات کا اس قدر بڑھ جانا فنڈز کے درست استعمال کے حوالے سے تشویشناک امر ہے۔ حکومتی اور متعلقہ اداروں کے ذرائع کے مطابق اس اسکیم کے تحت درخواستوں کی جانچ پڑتال، ماہرینِ طب کی آراء اور روزمرہ کے انتظامی امور پر بھاری رقوم صرف ہو رہی ہیں۔ طبی معائنوں کے مراحل طویل اور پیچیدہ ہونے کی وجہ سے اس عمل پر آنے والی لاگت میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے عامتہ الناس اور متاثرہ افراد میں بھی شدید بے چینی پیدا کر دی ہے جو طویل انتظار کے بعد اپنے معاوضے کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب عوامی حلقوں اور پارلیمانی سطح پر بھی اس بات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس پورے نظام کا از سر نو جائزہ لیا جائے تاکہ انتظامی اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور زیادہ سے زیادہ فنڈز اصل متاثرین تک پہنچائے جا سکیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اگر اخراجات کی یہ شرح اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو اسکیم کا بنیادی مقصد ہی فوت ہو جائے گا، اس لیے فوری اصلاحی اقدامات اٹھانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔