LIVE
Loading Breaking News...

سی آئی اے کی نائن الیون سے پہلے ہوائی جہاز کی دھمکی سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری

News Image
امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے نے اپنی 71 خفیہ صدارتی بریفنگز کو ڈی کلاسیفائی کر دیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نائن الیون کے واقعات سے سالوں قبل القاعدہ کے خطرات کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ ان دستاویزات کے مطابق اس وقت انتہا پسندوں کے منصوبوں کو بڑے پیمانے پر جانا جاتا تھا۔
امریکی خفیہ ایجنسی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی یعنی سی آئی اے نے اپنی اکہتر (71) ڈی کلاسیفائیڈ صدارتی بریفنگز عوام کے لیے جاری کر دی ہیں، جن سے تاریخی نوعیت کے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ان دستاویزات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ پر ہونے والے گیارہ ستمبر کے تاریخی حملوں یعنی نائن الیون سے برسوں قبل ہی انٹیلی جنس حکام کو اس قسم کے ممکنہ خطرات کا بخوبی اندازہ تھا۔ ان رپورٹس میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ کس طرح القاعدہ اور دیگر انتہا پسند عناصر دنیا بھر میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے ہوائی جہازوں اور دیگر ذرائع کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ جاری کردہ دستاویزات میں سے ایک اہم بریفنگ سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ اس وقت کے دوران امریکی حکام یہ سمجھتے تھے کہ القاعدہ کے ان خطرناک منصوبوں کے بارے میں انتہا پسند حلقوں میں کافی حد تک معلومات عام ہو چکی تھیں اور یہ منصوبے 'وسیع پیمانے پر معلوم' مانے جا رہے تھے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس خطرے کی پیشگی نوعیت کے باوجود حفاظتی اقدامات میں کہاں کوتاہی رہ گئی یا بروقت حکمت عملی کیوں نہیں بنائی جا سکی۔ امریکی تاریخ کے اس سیاہ باب سے جڑے ان نئے شواہد کے سامنے آنے کے بعد سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے حلقوں میں ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین اور محققین ان نئی جاری ہونے والی دستاویزات کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس وقت کے فیصلہ سازوں نے ان انٹیلی جنس رپورٹس کو کس نوعیت کا حتمی رسپانس دیا تھا۔ دوسری جانب، امریکی خفیہ ایجنسیوں کے طریقہ کار اور ان کی شفافیت پر بھی اس اقدام کے بعد سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ یہ بریفنگز آنے والے دنوں میں تاریخی اور سیاسی تحقیق کے لیے ایک اہم ترین حوالہ بننے کی توقع کی جا رہی ہے، جس سے اس دور کی سکیورٹی صورتحال کو سمجھنے میں مزید مدد ملے گی۔