Politics
رانا ثناء اللہ کا اپوزیشن کو کرارا جواب، وزیر اعظم اور صدر کی حیثیت پر بیان
مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے ایک بیان میں سوال اٹھایا ہے کہ اگر وزیر اعظم فارم 47 کی پیداوار ہیں تو صدر مملکت کا تعلق کس فارم سے ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کی قانونی حیثیت پر اٹھائے جانے والے سوالات کا سخت جواب دیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور مشیر وزیر اعظم رانا ثناء اللہ نے ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو ایک بار پھر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ حکومتی جماعت کی آئینی اور قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے والوں کو اپنے اندر بھی جھانکنا چاہئے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم کو فارم 47 کی پیداوار کہا جاتا ہے تو پھر یہ بھی واضح کیا جائے کہ موجودہ صدر مملکت کا تعلق کس فارم سے ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت ایک بار پھر بلند ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر انتخابی نتائج اور حکومت سازی کے حوالے سے الزامات عائد کر رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن کا ہمیشہ سے یہی مؤقف رہا ہے کہ موجودہ حکومت آئینی اور جمہوری طریقوں سے قائم کی گئی ہے اور ملک کو اس وقت بحرانوں سے نکالنے کے لیے سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ اپوزیشن کو مخالفت برائے مخالفت کی سیاست چھوڑ کر پارلیمنٹ کے اندر مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ملکی معیشت کی بہتری اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس طرح کے بیانات سے ملکی ترقی کا سفر نہیں روکا جا سکتا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق رانا ثناء اللہ کا یہ بیان حکومت کے دفاع میں ایک مضبوط سیاسی وار ہے جس کا مقصد اپوزیشن کے بیانیے کا کاؤنٹر کرنا ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاسی میدان میں اس بیان کے بعد مزید گرما گرمی دیکھنے میں آ سکتی ہے کیونکہ دونوں جانب سے سیاسی لفظی جنگ میں تیزی آ رہی ہے۔