World
يمن میں حوثی پیش قدمی اور خطے پر اثرات
يمن کے اسٹریٹجک ساحلی پٹی پر حوثی باغیوں کا قبضہ حالیہ برسوں کی ان کی سب سے بڑی فوجی کامیابی ہے۔ اس پیش قدمی سے خطے میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق جنگ میں ایک نیا اور خطرناک باب کھل سکتا ہے۔
يمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی برق رفتار پیش قدمی نے خطے کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ باغیوں کی طرف سے ملک کے ایک اہم اور اسٹریٹجک ساحلی علاقے پر قبضہ کرنا گزشتہ چند سالوں کے دوران ان کا سب سے بڑا اور مؤثر فوجی کارنامہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش قدمی نے مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا یہ واقعہ خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے گا یا نہیں، خصوصاً جب اس کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ایران کے ساتھ خطے کی دیگر طاقتوں کی کشمکش سے جوڑا جا رہا ہے۔ عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ ساحلی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے سے حوثی باغیوں کی جنگی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور وہ بین الاقوامی بحری راستوں کے لیے مزید خطرہ بن سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پہلے ہی مشرق وسطیٰ کا امن انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے اور مختلف محاذوں پر تنازعات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اس نئے موڑ کے بعد، خطے کے دیگر ممالک اور عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ اس پیش قدمی کے طویل المدتی اسٹریٹجک اثرات کیا ہوں گے۔ یمنی عوام کے لیے یہ صورتحال مزید مشکلات کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ جنگ کے پھیلاؤ سے انسانی بحران میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں، اس کا انحصار خطے کے اہم کھلاڑیوں کے آئندہ فیصلوں پر ہوگا۔