World
9/11 حملوں کی 25 ویں برسی پر امریکی رہنماؤں کی یادگار تقاریب
امریکہ میں 9/11 کے حملوں کی پچیسویں برسی کے موقع پر ملک بھر میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر امریکی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ عالمی چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
امریکہ میں تاریخ کے انتہائی ہلاکت خیز واقعات میں سے ایک یعنی 9/11 کے حملوں کی پچیسویں برسی انتہائی عقیدت اور سوگوار ماحول میں منائی گئی۔ اس اہم دن کے موقع پر ملک کے مختلف شہروں بالخصوص نیویارک اور واشنگٹن میں یادگار تقاریب کا انعقاد کیا گیا، جن میں حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں، سیاسی رہنماؤں اور متاثرہ خاندانوں کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کو خراج عقیدت پیش کیا اور اس دن کے شہداء کی قربانیوں کو یاد کیا۔ اس موقع پر ملک کے سیاسی اور عسکری حلقوں کی جانب سے مختلف بیانات بھی سامنے آئے جن میں قومی اتحاد اور سلامتی پر زور دیا گیا۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ دور کے چیلنجز اور خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں اہم باتیں کیں۔ انہوں نے موجودہ حالات اور ماضی کے تنازعات کے درمیان کئی پہلوؤں کا تقابلی جائزہ پیش کیا جس نے مبصرین کی توجہ بھی مبذول کرائی۔ دوسری طرف، سیاسی و سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے دیگر اہم رہنماؤں مثلاً عبدالسید (Abdul El-Sayed) نے اس موقع پر زیادہ جامع اور شمولیت پر مبنی معاشرے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے تاریخی اور مشکل ادوار سے قوموں کو یہ سبق ملتا ہے کہ وہ تفریق کو مٹاکر باہمی اتحاد، رواداری اور یکجہتی کو فروغ دیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ پچیس سال گزرنے کے باوجود 9/11 کے اثرات امریکی معاشرے، سیاست اور خارجہ پالیسی پر گہرے نقوش چھوڑ چکے ہیں، اور ہر سال اس برسی پر انڈین اور بین الاقوامی سطح پر نئے زاویوں سے سوچ بچار کی جاتی ہے۔ تقاریب کے دوران سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔