LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ، پیٹرولیم مصنوعات بڑی وجہ بن گئیں

News Image
امریکہ میں اگست کے مہینے میں پیٹرول کی قیمتوں میں ماہانہ بنیادوں پر تین اعشاریہ نو فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ملک میں مجموعی مہنگائی میں اضافے کا ایک تہائی حصہ بنتی ہیں۔
امریکہ میں اقتصادی سرگرمیوں کے دوران مہنگائی کے حوالے سے ایک بار پھر تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے جہاں اگست کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں تیز رفتار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس اضافے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات بالخصوص پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والا ہوشربا اضافہ ہے۔ اگست کے دوران ملک بھر میں پیٹرول کی قیمتوں میں ماہانہ بنیادوں پر تین اعشاریہ نو فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا جس نے عام صارفین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی ان قیمتوں میں اضافے کا اثر پورے ملک کی معیشت پر پڑا ہے اور اکیلے پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والا یہ اضافہ اگست کے مہینے میں مجموعی مہنگائی کے کل اضافے کا ایک تہائی حصہ بنتا ہے۔ توانائی کے شعبے میں اس طوفانی تیزی کی وجہ سے ٹرانسپورٹیشن اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جس کا براہ راست بوجھ عام امریکی شہریوں کی جیبوں پر پڑ رہا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا یہ رجحان جاری رہا تو آنے والے مہینوں میں مرکزی بینک کے لیے شرح سود کے حوالے سے فیصلے کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ مہنگائی کے اس نئے دباؤ نے وفاقی حکام اور معاشی پالیسی سازوں کی نیندیں اڑا دی ہیں کیونکہ اس سے صارفین کی قوت خرید شدید متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں اور کاروباری حلقوں کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ توانائی کے شعبے میں استحکام لانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ مہنگائی کے اس طوفان کو روکا جا سکے۔