World
امریکی انسداد منشیات مہم اور ایکواڈور کے ماہی گیروں پر مبینہ تشدد
امریکہ کی سخت انسداد منشیات کی مہم کے دوران ایکواڈور کے ماہی گیروں پر تشدد اور ان کی کشتیوں کو نشانہ بنانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ متعدد ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ انہیں ہتھکڑیاں لگا کر اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔
واشنگٹن: امریکہ کی جانب سے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف شروع کی جانے والی وسیع تر مہم کے دائرہ کار میں اب ایکواڈور کے غریب ماہی گیر بھی مبینہ طور پر براہ راست متاثر ہونے لگے ہیں۔ اس مہم کے تحت سمندری حدود میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران ماہی گیروں پر یہ سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ امریکی فورسز ان کی کشتیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ افراد اور مقامی تنظیموں کے مطابق، اس نوعیت کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
متعدد متاثرہ ماہی گیروں نے اپنے بھیانک تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کارروائی کے دوران انہیں ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر طویل عرصے تک غیر یقینی اور خوف کی فضا میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ محض اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے سمندر میں جاتے ہیں اور ان کا منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ یا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا، اس کے باوجود انہیں شک کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ انسداد منشیات کے نام پر معصوم شہریوں اور محنت کشوں کے انسانی حقوق کی پامالی نہ ہو۔ دوسری جانب، امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات سمندری حدود کو محفوظ بنانے اور غیر قانونی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ناگزیر ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی شکایات نے اس پالیسی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔