World
نائجیریا کا جنوبی افریقہ کے خلاف بڑا سفارتی قدم، دورے معطل
جنوبی افریقہ میں غیر ملکیوں کے خلاف جاری پرتشدد مظاہروں کے پیش نظر نائجیریا کی حکومت نے اپنے سرکاری دورے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان پرتشدد واقعات کی وجہ سے پہلے ہی دیس کے اندر دسیوں ہزار غیر ملکی افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
ابوجا اور پریٹوریا کے درمیان سفارتی تعلقات میں اس وقت شدید تناؤ پیدا ہو گیا جب نائجیریا نے جنوبی افریقہ میں غیر ملکیوں کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہروں اور ناخوشگوار واقعات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سرکاری دورے معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام دونوں افریقہ کے بڑے ملکوں کے مابین سفارتی سطح پر ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ جنوبی افریقہ کی سرزمین پر نائجیرین شہریوں اور دیگر تارکین وطن کو درپیش سکیورٹی خدشات اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ گذشتہ کئی ماہ سے جنوبی افریقہ کے مختلف شہروں میں مہاجرین مخالف جذبے شدت اختیار کر چکے ہیں، جہاں نعرے بازی اور پرتشدد حملوں کے ذریعے غیر ملکیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان ہنگامہ آرائیوں اور خوف کے ماحول کی وجہ سے اب تک دسیوں ہزار غیر ملکی باشندے اپنے کاروبار اور املاک چھوڑ کر جنوبی افریقہ سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور افریقی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انسانی بحران کا فوری نوٹس لے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس سفارتی تعطل سے خطے کی معاشی اور سیاسی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ نائجیریا اور جنوبی افریقہ دونوں ہی افریقی براعظم کے اہم ستون تصور کیے جاتے ہیں۔ نائجیرین حکومت نے واضح کیا ہے کہ جب تک جنوبی افریقہ میں تارکین وطن کے خلاف جاری تشدد اور نفرت انگیز کارروائیوں کا سلسلہ مکمل طور پر بند نہیں ہوتا اور وہاں مقیم نائجیرین شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک دوطرفہ اعلیٰ سطحی رابطے اور دورے بحال نہیں کیے جائیں گے۔ دوسری جانب جنوبی افریقی حکومت صورتحال کو قابو میں لانے اور متاثرہ افراد کو امداد فراہم کرنے کے لیے سکیورٹی اداروں کو متحرک کر رہی ہے تاکہ خطے میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔