World
یمن اور بحیرہ احمر: کیا حوثی ساحلی علاقوں پر تسلط برقرار رکھ سکیں گے؟
حالیہ برسوں میں حوثی عسکری قوت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے جس کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا وہ بحیرہ احمر کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ مبصرین کو شک ہے کہ حوثی اس نوعیت کی طویل مدتی فوجی کامیابیوں کو برقرار رکھ پائیں گے۔
یمن کے ساحلی علاقوں پر قبضے کے بعد دنیا بھر میں یہ سوال شدت کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا حوثی تحریک بحیرہ احمر کو مکمل طور پر بند کرنے یا اس پر اپنا طویل مدتی تسلط قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حالیہ کچھ برسوں کے دوران عسکری ماہرین نے یہ نوٹ کیا ہے کہ حوثیوں کی جنگی صلاحیتوں اور ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کی وجہ سے وہ خطے کے اہم بحری راستوں کو متاثر کرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ بحیرہ احمر بین الاقوامی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
تاہم، تمام مبصرین اس عسکری برتری کے مستقل ہونے کے حق میں نہیں ہیں۔ بہت سے بین الاقوامی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ حوثیوں نے قلیل مدت میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اپنی عسکری حکمت عملی سے بڑی طاقتوں کو بھی چونکا دیا ہے، لیکن طویل عرصے تک اس نوعیت کی جارحانہ فتوحات کو برقرار رکھنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ یمن کا تنازع پہلے ہی شدید اقتصادی اور انسانی بحران کا شکار ہے، اور طویل جنگی مہمات کے لیے درکار وسائل اور رسد کو مسلسل برقرار رکھنا کسی بھی غیر ریاستی عسکری گروہ کے لیے انتہائی مشکل امر ہوتا ہے۔
خطے کی موجودہ صورتحال نے امریکہ سمیت تمام بڑی عالمی طاقتوں اور اتحادی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ممالک اپنی بحری افواج کی موجودگی بڑھا رہے ہیں تاکہ سپلائی چین میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ حوثیوں کی طرف سے سمندری گزرگاہوں کو درپیش خطرات نے سفارتی کوششوں کو بھی تیز کر دیا ہے تاکہ جنگ کے دائرہ کار کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ حوثی اپنی اس نئی طاقت کو کس سمت میں استعمال کرتے ہیں اور کیا بین الاقوامی دباؤ یا عسکری ردعمل کے سامنے وہ اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھ پاتے ہیں۔ بحیرہ احمر کا یہ تنازع نہ صرف یمن کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا بلکہ آنے والے وقتوں میں بین الاقوامی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ثابت ہوگا۔