Politics
جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد مارچ کا اعلان
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کو ملک گیر تحریک میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
گوجرانوالہ میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت پیٹرولیم لیوی اور ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی۔ انہوں نے حکومت کو واضح انتباہ جاری کیا کہ اگر مارچ سے پہلے پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو احتجاج کا فیصلہ کن مرحلہ وفاقی دارالحکومت کی سڑکوں پر طے پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے جماعت اسلامی کے قافلے اسلام آباد کی طرف رخ کریں گے اور حکمرانوں کو عوامی ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو کڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر بھاری بھرکم ڈیوٹیز اور ٹیکسز وصول کیے جا رہے ہیں جس سے غریب عوام کا جینا محال ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے بنیادی مسائل حل نہ کیے گئے اور مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو جماعت اسلامی حکومت کے خلاف تحریک کو مزید وسیع اور سخت کرے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک میں جاری دھرنے اب اپنے ستائیسویں روز میں داخل ہو چکے ہیں جن میں لاہور، پشاور، کراچی اور دیگر شہروں کے عوام بھرپور شرکت کر رہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں بیوروکریسی، جاگیرداروں اور بااثر طبقے کے گٹھ جوڑ کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے ملک کے معاشی حالات اور مہنگائی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محنت کش طبقہ پس رہا ہے جبکہ عام آدمی کے بچے تعلیم اور بنیادی صحت جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر نے سود پر مبنی معاشی نظام کے خاتمے کا بھی پرزور مطالبہ کیا اور کہا کہ وفاقی شریعت عدالت کے فیصلوں کے باوجود سودی نظام کو جاری رکھنا قوم کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئی پی پی معاہدوں اور اشرافیہ کی مراعات ختم کرنے کی بجائے عوام پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے پاس عوام کے سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے، اور اب عوام خود حکمرانوں سے ان کی پالیسیوں کا حساب لیں گے۔ یاد رہے کہ جماعت اسلامی نے اس سے قبل ملک بھر میں صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنے دینے اور 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان بھی کیا تھا۔