Entertainment
حفیظ طاہر کا پی ٹی وی کے عینک والا جن اے آئی ایڈاپٹیشن پر شدید ردعمل
معروف ہدایت کار حفیظ طاہر نے پاکستان ٹیلی وژن کی جانب سے کلاسک ڈرامے ’عینک والا جن‘ کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے ڈھالنے کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو فن اور تخلیقی صلاحیتوں کی توہین قرار دیا ہے۔
پاکستان کے مقبول ترین اور لازوال بچوں کے ٹی وی ڈرامے ’عینک والا جن‘ کے خالق اور ہدایت کار حفیظ طاہر نے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کی جانب سے اس ڈرامے کو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی مدد سے دوبارہ تخلیق کرنے کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ حفیظ طاہر کا ماننا ہے کہ کلاسک ڈراموں کی اصل روح ان کے جاندار کردار، انسانی جذبے اور محنت میں ہوتی ہے جسے کمپیوٹر یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے دوبارہ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔
حفیظ طاہر نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ’عینک والا جن‘ محض ایک ڈرامہ نہیں تھا بلکہ یہ لاکھوں بچوں کے بچپن کا ایک سنہری باب تھا جس کے ساتھ نسلوں کے جذبات وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح اے آئی کی مدد سے پرانے شاہکاروں کو زبردستی نئے سانچے میں ڈھالنے سے فن کا اصل حسن اور انفرادیت ختم ہو جاتی ہے، اور اداروں کو چاہیے کہ وہ نئی تخلیقات پر توجہ دیں بجائے اس کے کہ پرانے مقبول پروجیکٹس کے ساتھ تجربات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں پی ٹی وی کی جانب سے کچھ روایتی پروگرامز اور ڈراموں کو جدید ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئے انداز میں پیش کرنے کے منصوبوں پر کام کا عندیہ دیا گیا تھا، جس کے بعد سے شوبز حلقوں اور پرانے فنکاروں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین اور شائقین کی ایک بڑی تعداد بھی حفیظ طاہر کی اس رائے سے اتفاق کرتی ہے کہ تکنیکی ترقی اپنی جگہ لیکن کلاسک آرٹ ورک کی اصل شکل کو چھیڑنا درست نہیں۔
اس صورتحال نے پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے روایتی فن پر اثرات کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی نشریاتی اداروں کے اخراجات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن ناظرین کے جذبات اور تخلیقی مواد کی اصل وقعت کو برقرار رکھنے کے لیے انسانی کاوشوں کو سراہنا اور ان کا احترام کرنا ہمیشہ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔