LIVE
Loading Breaking News...

امام الحق اور محمد رضوان صدر ٹرافی سے باہر، تحقیقات جاری

News Image
قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں امام الحق اور محمد رضوان کو این سی سی آئی اے کی تحقیقات کے باعث صدر ٹرافی گریڈ ون فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔ دونوں کھلاڑیوں سے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران مبینہ طور پر ڈریسنگ روم کی معلومات لیک ہونے کے معاملے پر تفتیش کی جا رہی ہے۔
پاکستان کے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق اور موجودہ کھلاڑیوں امام الحق اور محمد رضوان کو صدر ٹرافی گریڈ ون فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں کھیلنے سے روک دیا گیا ہے جو کہ چار مختلف مقامات پر شروع ہونے جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی شکایت پر نیشنل سائبر کرائم انویستی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے پوچھ گچھ کے بعد اپنی متعلقہ ٹیموں میں شمولیت سے منع کیا گیا ہے اور یہ پابندی تحقیقات کے حتمی فیصلے تک برقرار رہے گی۔ پی سی بی کی جانب سے اعلان کردہ اسکواڈز میں امام الحق کو آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) کی ٹیم کا کپتان جب کہ محمد رضوان کو سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز (ایس این جی پی ایل) کی ٹیم کا نائب کپتان نامزد کیا گیا تھا۔ اگرچہ دونوں کھلاڑی پہلے ہی لازمی فٹنس ٹیسٹ میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے ٹورنامنٹ کے پہلے راؤنڈ کے لیے نااہل تھے، تاہم متعلقہ محکموں کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ تحقیقات کے مکمل ہونے تک انہیں میدان میں اترنے کی اجازت نہ دی جائے۔ یہ سارا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب امام الحق اور محمد رضوان نے انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ دورے کے دوران ڈریسنگ روم سے مبینہ طور پر معلومات اور خبریں باہر لیک ہونے کے سلسلے میں این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ دونوں کھلاڑی ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں شکست کے بعد واپس وطن طلب کیا گیا تھا۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ پی سی بی حکام کی جانب سے ان کے موبائل فونز ضبط کر لیے گئے تھے اور بورڈ نے دونوں کھلاڑیوں کے خلاف اندرونی انکوائری کا باقاعدہ آغاز کر دیا تھا۔ دوسری جانب، این سی سی آئی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کرکٹرز لاہور میں ایجنسی کے دفتر میں پیش ہوئے جہاں ان سے تقریباً چار گھنٹے تک تفتیش کی گئی۔ کھلاڑیوں نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ان کے موبائل فونز پہلے ہی ایجنسی کے پاس موجود ہیں اور ان کا فارنزک معائنہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں کھلاڑیوں نے تحقیقاتی ادارے سے تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت بھی مانگی ہے۔ پی سی بی اس معاملے پر فی الحال باضابطہ طور پر زیادہ تبصرہ کرنے سے گریزاں ہے مگر انکوائری کے نتائج آنے تک دونوں کھلاڑیوں کا ڈومیسٹک کرکٹ میں حصہ لینا ناممکن نظر آ رہا ہے۔