Technology
یمن میں حوثی علاقوں سے اے آئی کی مدد سے ہتھیار بنانے کی کوشش ناکام
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ یمن کے حوثی کے زیر اثر علاقوں سے تعلق رکھنے والے صارفین نے اے آئی کی مدد سے جدید ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کی تھی۔ کمپنی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس ممکنہ خطرناک کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں سرگرم معروف کمپنی اینتھروپک نے ایک اہم اور چونکا دینے والے انکشاف میں بتایا ہے کہ یمن کے حوثی کے زیر کنٹرول علاقوں سے تعلق رکھنے والے بعض صارفین نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے جدید اور مہلک ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کی۔ کمپنی کے مطابق اس سکیورٹی خطرے کا بروقت پتا لگایا گیا اور سمارٹ سسٹمز کی مدد سے اس خطرناک کوشش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا ہے۔ ماہرین اسے اے آئی کے غلط استعمال کی روک تھام کے حوالے سے ایک بڑا قدم قرار دے رہے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح دنیا کے مختلف حصوں میں ناپسندیدہ عناصر جدید ٹیکنالوجی بالخصوص بڑے لینگویج ماڈلز کو اپنے تخریبی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اینتھروپک نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو সনাক্ত کرنے اور اسے روکنے کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ بھی جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح مختلف ریاستی اور غیر ریاستی عناصر اے آئی ٹولز کا غلط استعمال کرنے کی تاک میں رہتے ہیں۔
اینتھروپک کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق حوثی علاقوں کے علاوہ دنیا کے دیگر خطوں سے بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کو جاسوسی، سائبر حملوں اور مبینہ طور پر بائیو ویپنز کی تیاری میں استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر سخت حفاظتی اقدامات اور مانیٹرنگ کے نظام کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ کسی بھی شخص یا گروہ کو انسان دشمن سرگرمیوں کے لیے اے آئی کی طاقت استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
سائبر سکیورٹی کے ماہرین نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت عام اور زیادہ طاقتور ہوتی جا رہی ہے، اس کے غلط استعمال کے خطرات میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اب اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اے آئیو ڈویلپرز اور ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کو حفاظتی پروٹوکولز کو مزید سخت کرنا ہوگا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ انقلابی ٹیکنالوجی صرف فلاحی اور مثبت مقاصد کے لیے ہی استعمال ہو۔