World
سعودی پائپ لائن پر عراقی سرحد سے ڈرون حملہ، تحقیقات شروع
سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ مشرق مغرب پائپ لائن کو عراق سے لانچ کیے گئے ڈرونز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
سعودی عرب کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک کی اہم ترین مشرق مغرب پائپ لائن پر ایک فضائی حملہ کیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات اور تحقیقات کے مطابق اس حملے کے لیے عراقی سرزمین سے ڈرونز لانچ کیے گئے تھے، جنہوں نے تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی کی لہر دوڑ گئی ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ اداروں نے جائے وقوعہ کا معائنہ شروع کر دیا ہے تاکہ نقصان کے تخمینے اور تکنیکی تفصیلات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔اس صورتحال کے پیش نظر عراقی حکومت نے بھی فوری طور پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے خطے کے امن کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی کی حمایت نہیں کرتے اور اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہیں۔وزیراعظم علی الزیدی نے سکیورٹی اداروں کو سخت احکامات جاری کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ یہ کمیٹی اس بات کا سراغ لگائے گی کہ اس حملے میں ملوث عناصر کون تھے اور انہوں نے عراقی سرزمین کو اس مقصید کے لیے کس طرح استعمال کیا۔ عراقی حکومت کا عزم ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا تاکہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات پر کوئی آنچ نہ آئے۔اس بین الاقوامی واقعے کے بعد دنیا بھر میں توانائی کی منڈیوں اور سکیورٹی ماہرین کی توجہ خلیجی خطے پر مرکوز ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی برادری نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور سفارتی سطح پر رابطوں کو سراہا ہے تاکہ اس بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں تحقیقات کے نتائج اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے مزید اہم اقدامات متوقع ہیں۔