Technology
امریکی وکیل نے قتل کے مقدمے میں جعلی گواہ پیش کیے، چیٹ جی پی ٹی کا انکشاف
امریکہ میں ایک وکیل نے قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے جعلی گواہ پیش کر دیے۔ ریاست کی اعلیٰ عدالت نے حقائق کی تصدیق نہ کرنے پر وکیل کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیتے ہوئے بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
امریکہ میں قانون کے پیشے سے وابستہ ایک وکیل اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہو گئے جب انہوں نے قتل کے ایک سنگین مقدمے کی عدالت میں پیش کی جانے والی دستاویزات کے اندر مصنوعی ذہانت (AI) کے ٹول چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا۔ اس دوران وکیل موصوف نے عدالت میں ایسے گواہوں اور حوالہ جات کا ذکر کیا جو حقیقتاً وجود ہی نہیں رکھتے تھے اور وہ محض چیٹ جی پی ٹی کی تخلیق کردہ معلومات تھیں۔ اس انکشاف کے بعد عدالتی نظام میں ہلچل مچ گئی اور قانونی حلقوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے اخلاقی اور قانونی حدود پر ایک بار پھر طویل بحث چھڑ گئی ہے۔ ریاست کی سپریم کورٹ نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ وکیل پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے اور انہیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ایک ذمہ دار وکیل ہونے کے ناطے یہ ان کا بنیادی فرض تھا کہ وہ عدالت میں دائر کیے جانے والے تمام بیانات اور حقائق کی خود تصدیق کرتے، لیکن انہوں نے بغیر تصدیق کے اے آئی پر اندھا اعتماد کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ قانونی دستاویزات میں اس طرح کی سنگین لاپرواہی اور غیر مصدقہ معلومات کا استعمال کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ اس واقعے نے دنیا بھر کے قانونی ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ عدالتی امور میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے سخت ضوابط اور گائیڈ لائنز بنانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ عدالتی کارروائی کے تقدس اور درستگی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے، بصورت دیگر اس قسم کے واقعات انصاف کے نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔