World
برطانوی دستاویزات: برطانیہ 24 سال سے اسرائیلی جنگی جرائم سے باخبر تھا
برطانوی دفتر خارجہ کی حال ہی میں عوام کے لیے جاری ہونے والی خفیہ دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ برطانوی حکومت دو ہزار دو سے اسرائیلی تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ تھی۔ یہ ریکارڈ برطانوی پالیسی اور خطے میں ہونے والے مظالم پر اس کے طویل مدتی موقف پر ایک نیا سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔
برطانوی دفتر خارجہ کی حال ہی میں پبلک کی جانے والی خفیہ دستاویزات سے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق برطانوی حکومت گزشتہ چوبیس سالوں سے یعنی دو ہزار دو سے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہونے والے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے باقاعدہ باخبر تھی۔ ان دستاویزات میں واضح طور پر انتباہات اور رپورٹس موجود ہیں جن میں اسرائیلی ریاستی تشدد اور نہتے شہریوں پر ہونے والے مظالم کی مکمل تفصیلات درج کی گئی ہیں۔ یہ دستاویزات دو ہزار چوبیس سے عام شہریوں کے مطالعے اور تحقیق کے لیے دستیاب کی گئی ہیں، جن کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی حکام کو خطے کی صورتحال اور اسرائیلی کارروائیوں کے تمام قانونی اور اخلاقی پہلوؤں کا مکمل ادراک تھا۔ اس انکشاف کے بعد بین الاقوامی سطح پر برطانیہ کے سفارتی اور اخلاقی مؤقف پر شدید تنقید کی جارہی ہے، کیونکہ اس طویل عرصے کے دوران برطانوی حکومت کی طرف سے اسرائیل کے احتساب کے لیے کوئی ٹھوس اور موثر قدم اٹھانے کے بجائے مبینہ طور پر خاموشی اختیار کی گئی یا روایتی سفارتی موقف اپنایا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزات برطانوی خارجہ پالیسی کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کرتی ہیں، جہاں انسانی حقوق کے تحفظ کے دعووں کے باوجود عملی سطح پر تجارتی اور اسٹریٹجک مفادات کو فوقیت دی جاتی رہی ہے۔ اس انکشاف کے بعد برطانیہ کے اندر بھی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں کی طرف سے حکومت سے جواب طلبی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے، اور یہ توقع کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے اندر بھی اس حساس معاملے پر گرما گرم بحث دیکھنے کو ملے گی، جو مستقبل میں برطانوی مشرق وسطیٰ پالیسی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔