LIVE
Loading Breaking News...

نریندر مودی اور مسعود پزشکیان کی ملاقات، بحری تحفظ پر زور

News Image
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقات میں خطے میں تجارتی سرگرمیوں، بحری راستوں اور ملاحوں کے تحفظ کی شدید ضرورت پر زور دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ اہم ملاقات برکس سربراہی اجلاس کے تناظر میں نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی جس دوران خطے میں امن و استحکام، سمندری گزرگاہوں کی سلامتی اور ملاحوں کے تحفظ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی تجارت کے لیے سمندری راستوں کا محفوظ رہنا ناگزیر ہے اور تمام تنازعات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب نئی دہلی میں برکس کے سالانہ سربراہی اجلاس کی تیاریاں عروج پر ہیں، جس میں شرکت کے لیے چینی صدر شی جن پنگ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت کئی عالمی رہنما دارالحکومت میں موجود ہیں۔ بھارت اس خطے کے تنازعات کے دوران انتہائی متوازن خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے کیونکہ اس کے ایران کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی تعلقات ہیں، جب کہ دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ بھی اس کے اسٹریٹجک تعلقات مضبوط ہیں۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں لاکھوں بھارتی شہری مقیم ہیں اور وہاں کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بحیرہ عرب اور اردگرد کے علاقوں میں جہاز رانی پر ہونے والے حملوں سے بھارت کو خاصا نقصان پہنچا ہے اور ان حملوں میں اب تک کم از کم دس بھارتی شہری بھی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم مودی نے اپنے اس مستقل مؤقف کا اعادہ کیا کہ تمام امور کو پرامن انداز میں مذاکرات کے ذریعے سلجھایا جانا چاہیے اور سمندری تجارت اور ملاحوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کو ختم کرنے کے لیے مربوط کوششیں جاری رکھی جانی چاہیے۔ واضح رہے کہ دو ہفتوں کے دوران دونوں رہنماؤں کی یہ دوسری ملاقات ہے، اس سے قبل انہوں نے 31 اگست کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر بھی بات چیت کی تھی۔ نئی دہلی میں جاری برکس کے اس اہم دو روزہ اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات، عالمی تجارت کی موجودہ صورتحال اور توانائی کے بحران جیسے بڑے موضوعات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس میں شرکت کے لیے چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ 2019 کے بعد ان کا یہ پہلا دورۂ بھارت ہے، جس سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات میں ایک محتاط بہتری اور برف پگھلنے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔