LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں آزادی صحافت: نو تنظیموں کا وزیراعظم کو خط

News Image
پاکستان میں تیزی سے زوال پذیر آزادی صحافت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نو بین الاقوامی اور مقامی حقوقِ انسانی تنظیموں نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھا ہے۔ تنظیموں نے صحافیوں کے جبری گمشدگی، سنسرشپ اور ہراسانی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان میں آزادی صحافت کے ماحول میں تیزی سے آتی ہوئی گراوٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) اور رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) سمیت نو بین الاقوامی اور مقامی تنظیموں نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک خط ارسال کیا ہے۔ اس خط میں وزیراعظم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں صحافیوں کو درپیش سنگین خطرات اور پابندیوں کا فوری نوٹس لیں اور آزادی صحافت کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کریں۔ خط پر دستخط کرنے والی دیگر تنظیموں میں سیوکس، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ، فریڈم نیٹ ورک، بولو بھی اور رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان شامل ہیں۔ تنظیموں نے اپنے مشترکہ خط میں نشاندہی کی ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران پاکستان میں صحافیوں کو جبری گمشدگیوں، حراست، مجرمانہ تحقیقات اور بعض علاقوں میں رپورٹنگ سے روکے جانے جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دباؤ کے باعث کئی صحافیوں کو ملازمتوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ہے، جس نے آزادانہ اور محفوظ صحافت کی فضا کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خط میں پیکا (پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) کے بڑھتے ہوئے استعمال اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے عوامی مفاد کی خبریں دینے والے صحافیوں کے خلاف تحقیقات کو بھی انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، آزاد جموں و کشمیر میں رپورٹنگ پر عائد پابندیوں، انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے بلیک آؤٹس، اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے لیے نئے اور سخت ضابطہ اخلاق پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ تنظیموں نے اپنے مطالبات میں لاپتہ ہونے والے صحافیوں رضی طاہر اور محمد سیف کی فوری بازیابی، جون میں رپورٹر میاں زاہد اویسی پر حملے کی شفاف تحقیقات، اور غیر ملکی میڈیا پر عائد پابندیوں کے خاتے پر زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے آزاد براڈکاسٹرز کے امور میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا، جس میں معروف صحافی منیزہ جہانگیر کی آج نیوز سے برطرفی اور جیو نیوز کی نشریات معطل کیے جانے کے واقعات کا خصوصی ذکر کیا گیا۔ فریڈم نیٹ ورک کی حالیہ سالانہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں میڈیا اس وقت ایک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے وجودی خطرات کا سامنا ہے۔ جنوری 2025 میں پیکا قوانین میں کی گئی ترامیم نے صحافیوں اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید آسان بنا دیا ہے، جو جمہوریت کی بنیادوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ حقوقِ انسانی کے اداروں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ قومی سلامتی یا عوامی نظم و نسق کو عوامی مفاد کی رپورٹنگ دبانے کا بہانہ نہ بنایا جائے اور آزادی اظہارِ رائے کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے۔