Pakistan
میر رضا قتل کیس میں اہم پیشرفت، کاروباری شراکت داروں اور ملازمین کو نوٹس جاری
کراچی میں میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے مقتول کے کاروباری شراکت دار اور ملازمین کو طلب کر لیا ہے۔ کمیشن نے تمام گواہان کو پندرہ ستمبر کو ذاتی حیثیت میں یا الیکٹرانک ذرائع سے اپنے بیانات قلمبند کرانے کی ہدایت کی ہے۔
کراچی میں میر رضا علی قتل کیس کے حالات اور ممکنہ غفلت کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے جوڈیشل کمیشن نے اپنی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مقتول کے کاروباری شراکت دار، قریبی رابطوں اور ملازمین کو بطور گواہ اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق جن افراد کو طلب کیا گیا ہے ان میں احسن انیس شمسی بھی شامل ہیں جن کے بارے میں کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ ان کی مقتول کے ریسٹورنٹ 'وِفلیکس' میں تیس فیصد شراکت داری تھی۔ اس کے علاوہ ریسٹورنٹ کے مینیجر شیری اور اکاؤنٹنٹ محمد عمیر خان کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ کمیشن نے جن دیگر افراد کو بلایا ہے ان میں اسد علی بٹ اور عثمان بوزئی شامل ہیں جبکہ آسٹریلیا میں مقیم حسن تنولی کو ای میل کے ذریعے نوٹس جاری کیا گیا ہے کیونکہ ان تمام افراد کے نام مقتول کے کاروبار کے حوالے سے سامنے آئے تھے۔ تمام گواہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پندرہ ستمبر کو کمیشن کے روبرو پیش ہو کر اپنے بیانات قلمبند کروائیں۔ کمیشن کے حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ آسٹریلیا میں مقیم حسن تنولی زوم یا دیگر الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرا سکیں گے۔ مزید برآں، کمیشن نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ اگر گواہان کی تفصیلات دستیاب نہ ہوں تو بیلف تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لشکری کے ساتھ رابطہ کر کے نوٹس کی تعمیل کو یقینی بنائے۔ یاد رہے کہ پچیس سالہ میر رضا علی کی لاش جولائی کے مہینے میں کراچی کے علاقے گلستان جوار سے گولی کے زخم کے ساتھ ملی تھی، جس کے ایک دن قبل وہ پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے تھے۔ ابتدا میں پولیس کی جانب سے اس کیس کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی جس پر مقتول کے اہل خانہ نے شدید احتجاج کیا تھا اور پولیس پر حقائق چھپانے کا الزام عائد کیا تھا۔ واقعے کے بعد کے دنوں میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعیہ سید نے انکشاف کیا تھا کہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹس دستیاب تصاویر سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ بعد ازاں عدالت کے حکم پر مقتول کی دوسری مرتبہ قبر کشائی کی گئی اور میڈیکو لیگل بورڈ کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم کیا گیا جس کی حتمی رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ موت گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی اور یہ خودکشی کا معاملہ نہیں بلکہ قتل ہے۔ اب جوڈیشل کمیشن کی جانب سے گواہوں کی طلبی کے بعد اس پراسرار قتل کیس میں مزید حقائق سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔