Health
پاکستان میں سال 2026 کا چوتھا پولیو کیس رپورٹ، بنوں سے تصدیق
پاکستان میں انسداد پولیو کے قومی ایمرجেন্সি آپریشن سینٹر نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے سال 2026 کے چوتھے پولیو کیس کی تصدیق کر دی ہے۔ محکمہ صحت نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ آنے والی انسداد پولیو مہم کے دوران اپنے بچوں کو حفاظتی قطرے ضرور پلوائیں۔
اسلام آباد: نیشنل ایمرجেন্সি آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ رواں سال پاکستان میں پولیو کا چوتھا کیس سامنے آ گیا ہے۔ یہ نیا کیس خیبر پختونخوا کے حساس ضلع بنوں سے رپورٹ ہوا ہے، جس کے بعد طبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حکام کے مطابق زیادہ تر کیسز جنوبی خیبر پختونخوا سے سامنے آ رہے ہیں جہاں سیکیورٹی کے مسائل اور رسائی کی بندشوں کی وجہ سے بچوں تک حفاظتی قطرے پہنچانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ پولیو پروگرام کے جاری کردہ بیان کے مطابق متاثرہ بچہ بنوں کی تحصیل میریاں کے علاقہ نروڑ یونین کونسل سے تعلق رکھتا ہے، جہاں سیکیورٹی خدشات کے باعث 2025 سے پولیو ٹیمیں مسلسل بچوں تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر رہی ہیں۔ اس صورتحال نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ ملک بھر میں مضبوط نگرانی اور ویکسینیشن کی کوششوں کو جاری رکھنا کتنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی بچے کو اس موذی مرض سے بچایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ محفوظ اور موثر ویکسین کی بدولت پاکستان نے ماضی کے مقابلے میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد تک نمایاں کمی کی ہے، لیکن جنوبی خیبر پختونخوا میں وائرس کی موجودگی اب بھی ایک مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ سال 2026 میں اب تک جو چار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، ان میں سے بیشتر اسی خطے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل رواں سال کا پہلا کیس سندھ کے ضلع سجاول کی یونین کونسل بیلو سے چار سالہ بچے میں رپورٹ ہوا تھا، جبکہ دیگر کیسز بھی بنوں اور شمالی وزیرستان سے سامنے آئے تھے۔ پاکستان میں رواں سال کے دوران اب تک تین بڑی انسداد پولیو مہمات کامیابی کے ساتھ چلائی جا چکی ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ حکومت اور عالمی ادارہ صحت کی معاونت سے چلنے والے اس پروگرام کے تحت اب ایک نئی ملک گیر انسداد پولیو مہم 21 سے 27 ستمبر تک شیڈول کی گئی ہے۔ اس مہم کا بنیادی ہدف تقریبا 31 ملین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے، جس میں جنوبی خیبر پختونخوا کے وہ دور دراز علاقے بھی شامل ہیں جہاں کے بچے ماضی میں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس سے محروم رہ گئے تھے۔ ماہرین صحت نے والدین اور سرپرستوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے اس قومی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور پولیو ورکرز کو اپنے گھروں میں خوش آمدید کہیں کیونکہ جب تک ہر بچہ محفوظ نہیں ہوتا، تب تک کوئی بھی بچہ محفوظ نہیں ہے۔