Politics
جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ اور حکومت مخالف تحریک کا اعلان
جماعت اسلامی نے پی ڈی ایل کے خلاف 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو حکومت کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن تحریک چلائی جائے گی۔
جماعت اسلامی نے ملک میں جاری سیاسی اور معاشی بحران کے دوران حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک بار پھر سخت لائحہ عمل کا اعلان کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پی ڈی ایل کے نفاذ اور عوام پر بڑھتے ہوئے بوجھ کے خلاف 20 ستمبر کو دارالحکومت اسلام آباد کی طرف ایک بڑا مارچ کیا جائے گا۔ اس پر عزم مارچ کا مقصد حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی غم و غصے کو منظم کرنا اور عوام کو درپیش بنیادی مسائل کا فوری حل طلب کرنا ہے۔
کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حکومتی اقدامات نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اگر جماعت اسلامی کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا اور عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو یہ احتجاجی تحریک ایک نئے اور انتہائی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔ اس مرحلے میں حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے ملک گیر تحریک چلانے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے اس اعلان پر تحالفت شدید ردعمل سامنے آیا ہے، تاہم جماعت اسلامی اپنی حکمت عملی پر ڈٹی ہوئی ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک کو موجودہ دلدل سے نکالنے کا واحد حل عوام کے حقوق کی بازیابی ہے اور اس کے لیے سڑکوں پر پرامن جدوجہد آئینی حق ہے۔ اسلام آباد مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں ملک بھر میں کارکنوں کو متحرک کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ اس احتجاج کو بھرپور اور کامیاب بنایا جا سکے۔