LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی کے خطرات: ہگنگ فیس کے سی ای او کا انتروپک محقق پر تبصرہ

News Image
ہگنگ فیس کے سی ای او نے انتروپک کے ایک محقق کی جانب سے اے آئی کے خاتمے کے انتباہ کو ایئر کنڈیشنگ ٹیکنیشین سے موسمیاتی تبدیلی پر رائے لینے کے مترادف قرار دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں مصنوعی ذہانت کے انسانیت کے لیے خطرات اور قوانین سازی پر عالمی سطح پر بحث میں شدت آ گئی ہے۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی اور اس کے ممکنہ خطرات پر بحث جاری ہے، جہاں انتروپک کے ایک محقق کے حالیہ انتباہ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ انتروپک کے محقق نے اے آئی کو انسانیت کے لیے آؤٹ آف کنٹرول خطرہ قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل قریب میں انسانی بقا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس بیان کے بعد دنیا بھر میں امریکی قانون سازوں سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے اے آئی پر مزید سخت ضوابط اور قوانین لاگو کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں اوپن سورس اے آئی پلیٹ فارم 'ہگنگ فیس' کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اس انتباہ پر ایک دلچسپ مگر تنقیدی تبصرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے محققین سے اے آئی کے عالمی خطرات کے بارے میں رائے لینا بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنے اے سی ٹھیک کرنے والے ٹیکنیشین سے دنیا میں موسمیاتی تبدیلی پر تفصیلی گفتگو کریں۔ ان کے اس بیان کا مقصد اے آئی انڈسٹری کے اندر بڑھتے ہوئے خدشات اور ان کے تناسب پر سوال اٹھانا تھا، کیونکہ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے خاتمے کے دعوے حقائق سے زیادہ مفروضوں پر مبنی ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی اس بات پر گرما گرم بحث جاری ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت واقعی آنے والے عشرے میں تمام انسانوں کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے یا یہ محض سائنس فکشن کے خیالات ہیں۔ جہاں ایک طرف کچھ ماہرین اور محققین انتہائی سنسنی خیز پیشگوئیاں کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف صنعت کے کئی سرکردہ رہنما اس طرح کے دعوؤں کو مبالغہ آرائی قرار دے رہے ہیں۔ ہگنگ فیس کے سی ای او کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کی حکومتیں مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ اس کی بے لگام ترقی سے پیدا ہونے والے ممکنہ چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔