LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کی نایاب گھونگا نسل کی بقا کی جنگ اور ماحولیاتی کوششیں

News Image
برطانیہ بھر میں کبھی عام پایا جانے والا یہ مولسک اب محض ویلز کی ایک ہی جھیل تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات اس نایاب اور منفرد جاندار کی بقا کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں۔
ماہرین ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے برطانیہ میں ایک انتہائی نایاب اور لیس دار گھونگے کی نسل کو بچانے کے لیے شدید جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ منفرد مولسک کبھی پورے برطانیہ میں وافر مقدار میں پایا جاتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے موسمی حالات، آلودگی اور قدرتی مسکن کے خاتمے کی وجہ سے اب یہ صرف ویلز کی ایک ہی جھیل میں زندہ بچا ہے۔ اس جھیل کے علاوہ دنیا میں اس کی موجودگی کا کوئی اور سراغ نہیں مل سکا، جس کی وجہ سے ماہرین اس کی معدومیت کے خطرے پر سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔ محققین کے مطابق، اس قسم کے چھوٹے جاندار کسی بھی آبی ماحولیاتی نظام کے توازن کو برقرار رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پانی کے اندر موجود اس لیس دار گھونگے کی حفاظت کے لیے اب ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے جس کے تحت جھیل کے پانی کے معیار کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بیرونی خطرہ اس کی آبادی کو مزید نقصان نہ پہنچائے۔ مقامی حکومت اور ماحولیاتی تنظیمیں مشترکہ طور پر اس منصوبے پر کام کر رہی ہیں تاکہ اس نایاب نسل کو ہمیشہ کے لیے ختم ہونے سے بچایا جا سکے۔ اس مہم کے دوران سائنسدانوں کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ اس جھیل کا محدود ماحول اس گھونگے کے لیے انتہائی حساس ہے۔ اگرچہ ماضی میں اس کی افزائش نسل کے لیے کئی کوششیں کی گئیں، لیکن خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ تاہم، حالیہ دنوں میں جدید سائنسی طریقوں اور بہتر نگرانی کی بدولت ماہرین کو کچھ امید کی کرن نظر آئی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو برطانیہ کا یہ انوکھا جاندار ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ اس پوری صورتحال نے ماحولیاتی تبدیلیوں اور انسانوں کی وجہ سے آبی حیات کو لاحق خطرات پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ عوام میں بھی اس نایاب گھونگے کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ اس کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کے قدرتی مسکن کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ماہرین پرامید ہیں کہ اگر موجودہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف اس نسل کو بچایا جا سکے گا بلکہ مستقبل میں اس کی تعداد میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔