LIVE
Loading Breaking News...

زلمے خلیل زاد کا نائن الیون کے بعد امریکی پالیسیوں پر اعتراف

News Image
امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد نے اعتراف کیا ہے کہ نائن الیون کے بعد افغانستان اور عراق کی جنگوں کے دوران سنگین نوعیت کی غلطیاں کی گئیں۔ ان کے مطابق ان فیصلوں کے خطے پر انتہائی دور رس اور منفی اثرات مرتب ہوئے۔
امریکہ کے سابق اعلیٰ سفارت کار اور افغانستان میں اہم کردار ادا کرنے والے زلمے خلیل زاد نے نائن الیون کے تاریخی سانحے کے بعد امریکی حکمت عملی اور پالیسیوں پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں تسلیم کیا ہے کہ نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ کی طرف سے افغانستان اور عراق میں جو عسکری و سیاسی فیصلے کیے گئے، ان میں متعدد سنگین غلطیاں سرزد ہوئیں۔ خلیل زاد کے مطابق ان فیصلوں کے نتیجے میں نہ صرف دونوں ممالک طویل المدتی تباہی اور عدم استحکام کا شکار ہوئے بلکہ خطے کا امن بھی ہمیشہ کے لیے داؤ پر لگ گیا۔ زلمے خلیل زاد نے نشاندہی کی کہ واشنگٹن میں موجود فیصلہ سازوں نے زمینی حقائق کو سمجھے بغیر ایسے اہداف مقرر کیے جن کا حصول ناممکن تھا۔ افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی شکست کے فورا بعد ملک کی تعمیر نو اور ایک جامع سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینے میں بڑی کوتاہیاں کی گئیں۔ اس کے علاوہ عراق کی جنگ میں بغیر کسی واضح طویل مدتی حکمت عملی کے کودنا ایک تاریخی غلطی ثابت ہوا جس نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ سابق امریکی سفارت کار نے مزید کہا کہ اس وقت کی امریکی قیادت نے عجلت میں فیصلے کیے اور مقامی ثقافت، روایات اور سیاسی حرکیات کو یکسر نظر انداز کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان پالیسیوں کے منفی اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے نتیجے میں امریکی معیشت، عالمی ساکھ اور خطے کے لاکھوں انسانوں کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک ایک اہم ترین امریکی سفارت کار کی جانب سے اس قسم کا اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن کی روایتی خارجہ پالیسی کے خدوخشک میں بڑی خامیوں موجود تھیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں نائن الیون کے بعد کی امریکی جنگوں کے نتائج کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان غلطیوں کا اعتراف کرنے میں کافی تاخیر ہو چکی ہے، تاہم مستقبل میں اس قسم کی عسکری مہم جوئی سے بچنے کے لیے ان تاریخی حقائق سے سبق سیکھنا انتہائی ضروری ہے۔ زلمے خلیل زاد کے ان خیالات کو بین الاقوامی سطح پر بڑی اہمیت دی جا رہی ہے اور اسے امریکی پالیسی سازی کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔