LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ کی سوڈان ہتھیاروں کی پابندی میں ایک ماہ کی توسیع

News Image
اقوام متحدہ نے سوڈان پر عائد ہتھیاروں کی پابندیوں کو مزید ایک ماہ کے لیے بڑھا دیا ہے۔ سوڈانی مندوب کا کہنا ہے کہ مکمل پابندی یو این چارٹر کے حقِ دفاع سے تضاد رکھتی ہے۔
اقوام متحدہ نے سوڈان کی صورتحال کے تناظر میں ملک پر عائد ہتھیاروں کی پابندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ توسیع ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب سوڈان میں اندرونی کشمکش اور تنازعات جاری ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اس حوالے سے مسلسل غوروخوض کیا جا رہا ہے۔ سلامتی کونسل کے اس عبوری فیصلے کا مقصد صورتحال کا مزید جائزہ لینا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔ سوڈان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ملک پر ہتھیاروں کی مکمل پابندی عائد کرنا اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چارٹر ہر رکن ریاست کو اپنے دفاع کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے اور اس قسم کی پابندیاں سوڈانی حکومت اور سکیورٹی فورسز کے دفاعی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ سوڈان اور بین الاقوامی برادری کے درمیان اس نوعیت کے قانونی اور سفارتی اختلافات آنے والے دنوں میں مزید بحث کا محور بن سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اندر بھی ان پابندیوں کی افادیت اور وسعت کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ جہاں کچھ ممالک سخت پابندیوں کے حامی ہیں، وہیں دیگر فریقین زمینی حقائق اور ملکی خودمختاری کو مدنظر رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔ ایک ماہ کی اس عارضی توسیع کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ کونسل سوڈان کے حوالے سے اپنی آئندہ کی پالیسی پر مزید جامع بحث کرے گی، جس سے یہ طے ہوگا کہ عالمی ادارے کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔