Politics
پی ٹی آئی مارچ: کے پی ایڈووکیٹ جنرل کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار پر اعتراض
خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے ستائیس ستمبر کے مارچ کے خلاف دائر درخواست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اس کے دائرہ اختیار کو چیلنج کر دیا ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی سماعت چودہ ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے आगामी ستائیس ستمبر کے احتجاجی مارچ اور جلسے کے خلاف دائر کی جانے والی ایک درخواست کی سماعت کے دوران دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کے دائرہ اختیار کو باضابطہ طور پر چیلنج کر دیا۔ سماعت کے آغاز پر عدالت میں اس بات پر طویل بحث ہوئی کہ آیا اسلام آباد ہائیکورٹ کو اس معاملے میں مداخلت کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ اس موقع پر کے پی کے نمائندے کی طرف سے مؤقف اپنایا گیا کہ متعلقہ قانونی و انتظامی دائرہ اختیار کے بغیر اس نوعیت کی درخواستوں کی سماعت مناسب نہیں ہے۔
دوسری جانب ملک بھر میں سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے اور پی ٹی آئی کی جانب سے ملک گیر احتجاجی مہم اور طویل مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے عوامی رابطہ مہم بھی جاری ہے تاکہ ستائیس ستمبر کے شیڈول کو کامیاب بنایا جا سکے۔ اس سیاسی کشمکش کے درمیان عدلیہ میں دائر ہونے والی متفرق درخواستیں اور ان پر ہونے والی سماعتیں ملکی سیاسی منظر نامے میں خاص اہمیت اختیار کر چکی ہیں، جہاں ایک طرف حکومت اور انتظامیہ اس طرح کے مظاہروں کو روکنے کے لیے قانونی راستے تلاش کر رہی ہے، وہیں اپوزیشن جماعت پرعزم دکھائی دیتی ہے۔
عدالت نے فریقین کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد اس کیس کی مزید کارروائی اور آئندہ کی قانونی بحث کے لیے تاریخ میں توسیع کر دی ہے۔ فاضل جج نے ہدایت کی ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تیاری کے ساتھ پیش ہوں تاکہ معاملے کے قانونی اور آئینی نکات کا احاطہ کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے کیس کی سماعت چودہ ستمبر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے جس کے بعد اس روز مزید اہم قانونی لڑائی متوقع ہے۔