LIVE
Loading Breaking News...

جامعہ کراچی کے پروفیسر پر تشدد، ملزم پولیس کے حوالے

News Image
جامعہ کراچی کے شعبہ علومِ اسلامیہ کے چیئرمین پر تشدد اور دھمکیاں دینے والے ملزم کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے ملزم کے 14 روزہ ریمانڈ کی استدعا پر سماعت کرتے ہوئے اس کا طبی معائنہ کرانے کا حکم بھی صادر کیا ہے۔
جامعہ کراچی کے شعبہ علومِ اسلامیہ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عارف ساقی پر مبینہ تشدد اور دھمکیاں دینے کے واقعے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ہوٹل کے مالک کے بیٹے اور اس کے گارڈز کی جانب سے کیے جانے والے اس پرتشدد واقعے کے بعد پولیس نے ملزم کو اپنی تحویل میں لے کر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس حکام نے ملزم کی باضابطہ گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے عدالت میں اس کے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے۔ واقعے کی تحقیقات کے دوران عدالت نے ملزم کے حوالے سے پولیس کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کا فوری طور پر طبی معائنہ کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔ عدالتی احکامات کے مطابق قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزم کو متعلقہ اسپتال لے جایا جائے گا تاکہ اس کی صحت اور دیگر قانونی امور کو یقینی بنایا جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یاد رہے کہ یہ واقعہ گزشتہ دنوں اس وقت پیش آیا تھا جب جامعہ کراچی کے شعبہ علومِ اسلامیہ کے چیئرمین عارف ساقی کو ایک ہوٹل کے مالک کے بیٹے اور اس کے محافظوں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد تعلیمی حلقوں، اساتذہ کی تنظیموں اور سول سوسائٹی میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا تھا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ موجودہ صورتحال میں پولیس اور انتظامیہ پر دباؤ تھا کہ وہ اس گھناؤنے فعل میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ اب جبکہ مرکزی ملزم کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے اور عدالت کی جانب سے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ اس کیس میں مزید اہم انکشافات بھی سامنے آئیں گے اور متاثرہ پروفیسر کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔