LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا کیس: سندھ کے وزیر داخلہ کی جوڈیشل کمیشن میں معذرت

News Image
سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء لانجر نے میر رضا علی کیس کے سلسلے میں جوڈیشل کمیشن کے روبرو پیش ہو کر ایڈووکیٹ جنرل کے نامناسب رویے پر غیر مشروط معذرت کر لی ہے۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس سیال نے ریمارکس دیے کہ سرکاری وکیل کے رویے نے جلتی پر تیل کا کام کیا جس سے متاثرہ خاندان کا اعتماد مزید مجروح ہوا۔
کراچی: سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء لانجر نے تاجر میر رضا علی کے قتل اور اس سے جڑے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش ہو کر ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے رویے پر باضابطہ طور پر معذرت کا اظہار کیا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی کمیشن کی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ متوفی کے خاندان کا اس تفتیشی عمل پر اعتماد بدستور انتہائی کم ہے، جو کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔ کمیشن کے روبرو اس اہم معاملے پر تفصیلی بحث کی گئی جہاں انتظامی امور پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس سیال نے کارروائی کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل کا رویہ اس حساس نوعیت کے معاملے میں انتہائی نامناسب تھا اور ان کے اس طرزِ عمل نے معاملے میں 'جلتی پر تیل کا کام' کیا۔ جسٹس سیال کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب لواحقین پہلے ہی صدمے اور انصاف کے حصول کے لیے کوشاں ہیں، سرکاری نمائندوں کی جانب سے اس قسم کی غ غیر ذمہ دارانہ رویہ ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو مزید متزلزل کرتا ہے۔ دوسری جانب، صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانجر نے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات چاہتی ہے تاکہ حقائق تک رسائی ممکن ہو سکے۔ وزیر داخلہ نے کمیشن کو یقین دلایا کہ حکومت کی طرف سے کمیشن کے تمام احکامات پر من و عن عمل درآمد کیا جائے گا تاکہ انصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ واضح رہے کہ میر رضا علی کا معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے کافی زیر بحث ہے اور ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اپنایا جا رہا ہے کہ انہیں انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا سامنا ہے۔ جوڈیشل کمیشن اس کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور اصل حقائق کو عوام کے سامنے لایا جا سکے۔ کمیشن کی یہ کارروائی آنے والے دنوں میں مزید اہم موڑ اختیار کر سکتی ہے۔