LIVE
Loading Breaking News...

انتھروپک کا اے آئی کے ذریعے بائیو ویپن کی تیاری روکنے کا دعویٰ

News Image
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی انتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے سسٹمز کو خطرناک مقاصد جیسے کہ بائیو ویپنز اور فراڈ کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ کمپنی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایسے تمام عناصر کو اپنے پلیٹ فارم تک رسائی سے روک دیا۔
مصنوعی ذہانت کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی انتھروپک، جو کہ مشہور اے آئی چیٹ بوٹ کللاؤڈ کی تخلیق کار ہے، نے جمعرات کے روز ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کس طرح مختلف عناصر نے انتھروپک کی مصنوعات کو مجرمانہ اور خطرناک مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ان ناپاک عزائم میں بڑے پیمانے پر فراڈ، جاسوسی اور سب سے بڑھ کر خطرناک حیاتیاتی ہتھیاروں یعنی بائیو ویپنز کی تیاری جیسی سنگین کوششیں شامل تھیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جدید ترین حفاظتی اقدامات کی بدولت ان تمام خطرناک کوششوں کو بروقت ناکام بنا دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، انتھروپک کے سیکیورٹی اور سیفٹی سسٹمز نے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے غلط استعمال کو شناخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جیسے ہی کسی صارف یا نیٹ ورک کی طرف سے مشکوک سرگرمی یا حیاتیاتی مواد سے متعلق خطرناک سوالات یا ہدایات کا پتہ چلا، کمپنی کے خودکار نظام نے فوری طور پر رسائی محدود کر دی۔ انتھروپک کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی زیادہ طاقتور ہوتی جا रही ہے، ویسے ہی اس کے غلط استعمال کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے سخت حفاظتی پالیسیاں ناگزیر ہیں۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اے آئی کی سلامتی اور ضابطہ کار کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ دنیا بھر کے ریگولیٹرز اور ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اے آئی کمپنیاں اپنی مصنوعات کے ممکنہ نقصانات کو روکنے کے لیے پیشگی اقدامات کریں۔ انتھروپک کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب اپنے پلیٹ فارمز پر سیکیورٹی کو اولین ترجیح دے رہی ہیں تاکہ سائبر کرائم اور خطرناک ٹیکنالوجیز کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ انتھروپک نے مزید عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اپنی سیکیورٹی ٹیموں کو مزید مضبوط کریں گے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ کو انڈسٹری میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دیگر اے آئی کمپنیوں کو بھی اپنی سیکیورٹی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے اخلاقی اور حفاظتی پہلوؤں پر بھی کڑی نظر رکھنا ہوگی۔