Pakistan
پاکستان میں ایل این جی کی قلت، وزیر اعظم کا دو گھنٹے لوڈشیڈنگ کا حکم
آبِ ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی میں رکاوٹ کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک کے کسی بھی حصے میں دو گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔
آبِ ہرمز میں حالیہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے منفی اثرات اب پاکستان کے توانائی کے شعبے پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس سمندری گزرگاہ پر کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کو درآمد کی جانے والی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایل این جی کی بروقت سپلائی متاثر ہونے کے نتیجے میں ملک کے پاور پلانٹس کو گیس کی قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے بجلی کی مجموعی پیداوار کم ہوئی ہے اور ملک بھر میں غیر اعدال اعلان شدہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے عام شہریوں اور کاروباری طبقے دونوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں اور حکام کا ہنگامی اجلاس طلب کیا اور صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیر اعظم نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی علاقے میں بجلی کی طویل بندش یا غیر ضروری لوڈشیڈنگ ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے حکام کو حکم دیا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کو کسی بھی صورت میں دو گھنٹے سے زیادہ نہ ہونے دیا جائے تاکہ عام عوام کو اس بحران کی وجہ سے کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
واضح رہے کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمدی ایل این جی کے ذریعے پورا کرتا ہے، اور آبِ ہرمز دنیا کی ان اہم ترین سمندری تجارتی شاہراہوں میں شامل ہے جہاں سے یہ تمام ترسیل گزرتی ہے۔ اس خطے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی براہ راست پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشت اور توانائی کے ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔ حکومت اس وقت اس متبادل انتظام اور ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کرنے میں مصروف ہے تاکہ گیس کے ذخائر کو بہتر بنایا جا سکے اور بجلی کی پیداوار کو معمول کے مطابق چلایا جا سکے۔
دوسری جانب وزیر اعظم کی جانب سے دو گھنٹے کی حد مقرر کرنے کے بعد پاور ڈسٹ্রিبیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے نظام کو بہتر بنائیں اور گرڈ سٹیشنز پر لوڈ مینجمنٹ کو شفاف طریقے سے انجام دیں۔ حکومت کا عزم ہے کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کے اثرات کو کم سے کم کیا جائے تاکہ صنعتی شعبہ اور گھریلو صارفین اس سے کم سے کم متاثر ہوں۔