LIVE
Loading Breaking News...

پنجاب میں خراب تعلیمی نتائج پر اساتذہ کی نوکریاں خطرے میں

News Image
صوبائی وزیر تعلیم نے انتباہ جاری کیا ہے کہ نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات میں بیس فیصد سے کم نتیجہ دینے والے سرکاری اساتذہ کو نوکریوں سے برطرف کر دیا جائے گا۔ پنجاب کے دو ہزار دو سو سے زائد سرکاری اسکولوں کی خراب کارکردگی کے بعد یہ سخت فیصلہ سامنے آیا ہے۔
صوبہ پنجاب کے تعلیمی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب حکومت نے میٹرک اور نویں جماعت کے خراب نتائج پر انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اساتذہ کو کڑی تنبیہ کی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق صوبے بھر کے تقریباً دو ہزار دو سو سرکاری اسکولوں میں نویں جماعت کا نتیجہ بیس فیصد سے بھی کم رہا ہے، جو کہ محکمہ تعلیم کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر وزیر تعلیم نے واضح کیا ہے کہ آئندہ بھی اگر تعلیمی نتائج بہتر نہ بنائے گئے اور معیار بیس فیصد سے نیچے گرا تو متعلقہ اساتذہ کو نوکریوں سے برطرف کر دیا جائے گا۔ اس سخت فیصلے کا مقصد سرکاری اسکولوں کے تعلیمی معیار کو بلند کرنا اور طلباء کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔ محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے کچھ عرصے سے بعض سرکاری اداروں میں تعلیمی گراوٹ تیزی سے دیکھی جا رہی ہے جس پر والدین اور ماہرین تعلیم نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اساتذہ کی کارکردگی کو جانچنے کا اب یہی واحد مؤثر طریقہ رہ گیا ہے کہ نتائج کی بنیاد پر ان کی جواب دہی کی جائے۔ اس وارننگ کے بعد اساتذہ تنظیموں میں بھی بحث کا آغاز ہو گیا ہے، جبکہ دوسری جانب محکمہ تعلیم نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ خراب نتائج والے اسکولوں کی کڑی نگرانی کریں اور اساتذہ کو اپنی تدریسی صلاحیتیں بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا حکم دیں۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور جو اساتذہ اپنے فرائضِ منصبی اچھے طریقے سے انجام نہیں دے رہے، انہیں مزید مواقع دینے کے بجائے قانون کے مطابق کارکردگی کی بنیاد پر سزائیں دی جائیں گی۔