World
یمن بحران: حوثی پیش قدمی سے 50 ہزار شہری بے گھر
یمن میں حوثی فورسز کی بحیرہ احمر کے ساحل پر پیش قدمی کے نتیجے میں تقریباً 50 ہزار شہری اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس پیش قدمی اور اہم شپنگ روٹ پر جزیرے کے قبضے کے بعد عالمی تجارت اور خلیجی تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدات بڑھ گئے ہیں۔
یمن میں جاری تنازعے نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے جہاں ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحل پر بڑی پیش قدمی کرتے ہوئے اہم سمندری چوک پوائنٹس اور ایک اسٹریٹجک جزیرے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال اور تازہ ترین فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً پچاس ہزار یمنی شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے جبکہ امدادی تنظیمیں بے گھر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے کوشاں ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حوثیوں کی اس پیش قدمی سے عالمی تجارت کو براہ راست خطرہ لاحق ہو گیا ہے کیونکہ بحیرہ احمر کا یہ خطہ دنیا کے اہم ترین شپنگ روٹس میں شمار ہوتا ہے۔ اس سمندری گزرگاہ پر حوثی کنٹرول کے بعد خلیجی تیل کی ترسیل کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایک اہم پائپ لائن کو بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر بند کر دیا گیا ہے جس سے خطے میں معاشی دباؤ بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے اسٹریٹجک جزائر اور ساحلی علاقوں پر قبضے سے یمن کی جنگ کا رخ ایک بار پھر بدل سکتا ہے اور اس سے بین الاقوامی سمندری سلامتی کو بھی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی طاقتوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور سمندری راستوں کی حفاظت کے لیے مختلف ممالک کی بحری افواج ہائی الرٹ پر ہیں۔
مقامی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے یمن میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور امدادی سامان کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ بے گھر ہونے والے ہزاروں شہریوں کو خوراک، صاف پانی اور طبی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا ہے، اور اگر صورتحال جلد کنٹرول میں نہ لائی گئی تو یہ ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔