Pakistan
سندھ اسمبلی نئے صوبوں کا قیام مسترد کر دے گی مراد علی شاہ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ سندھ اسمبلی قومی اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق کسی بھی اقدام کو سختی سے مسترد کر دے گی۔ انہوں نے یہ بیان ملک میں نئے صوبوں کی بحث اور پارلیمانی مباحثے کے تناظر میں دیا ہے۔
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ سندھ اسمبلی قومی اسمبلی یا کسی بھی دوسرے فورم سے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق منظور کی جانے والی کسی بھی کوشش کو یکسر مسترد کر دے گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں بحث اور پارلیمانی مباحثے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ حال ہی میں وفاقی وزیر نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ماہ نئے صوبوں کے موضوع پر باقاعدہ پارلیمانی بحث کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس تمام صورتحال کے پیش نظر سندھ کی سیاسی قیادت نے اپنی پوزیشن انتہائی واضح کر دی ہے اور صوبے کی وحدت پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تشکیل کا مدعا ہمیشہ سے انتہائی حساس رہا ہے۔ بالخصوص سندھ میں اس موضوع پر شدید سیاسی ردعمل دیکھنے میں آتا ہے جہاں قوم پرست جماعتیں اور صوبائی حکومتیں تاریخی اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے صوبے کی تقسیم کی مخالفت کرتی چلی آ رہی ہیں۔ مراد علی شاہ کا یہ تازہ ترین بیان اسی پس منظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انہوں نے صوبائی خود مختاری اور یکجہتی کے دفاع کا عزم ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وفاقی حکومت یا دیگر جماعتوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے کسی بھی ایسے قدم کے خلاف سیاسی و پارلیمانی محاذ پر بھرپور مزاحمت کا اشارہ دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی میں ہونے والے پارلیمانی مباحثے سے ملکی سیاست میں نئے صوبوں کے تنازع پر مزید گرم جوشی آنے کا امکان ہے جبکہ سندھ حکومت کا سخت موقف اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔