World
یورپی یونین: پناہ کی درخواستوں میں پانچ سال کی بڑی کمی
رواں سال کے پہلے نصف میں یورپی یونین میں پناہ کی درخواستوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکومتوں کی جانب سے ملک بدری کے مراکز کے قیام اور سخت پالیسیوں کے نفاذ کے باعث یہ رجحان سامنے آیا ہے۔
رواں سال دو ہزار چھبیس کے پہلے نصف کے دوران یورپی یونین میں پناہ کی درخواستوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ اعداد و شمار پانچ سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ مختلف ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ یورپی ممالک کی جانب سے مہاجرین سے متعلق سخت پالیسیوں کا نفاذ اور ملک بدری کے نئے مراکز کے قیام کے لیے کوششیں ہیں۔ یورپی حکومتیں پناہ کے نظام کو مزید سخت کر رہی ہیں تاکہ غیر قانونی نقل مکانی کو روکا جا سکے اور درخواستوں کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔اس مجموعی کمی کے باوجود مختلف ممالک میں صورتحال مختلف رہی ہے۔ یونین کے اعداد و شمار کے مطابق یونین اور اس سے منسلک ممالک میں فی کس آبادی کے حساب سے پناہ کی سب سے زیادہ درخواستیں دینے والے ممالک میں یونان سرفہرست ہے۔ یونان میں آنے والے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کا دباؤ بدستور برقرار ہے، جس سے مقامی حکام کو انتظامی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب، سوئٹزرلینڈ سے بھی ایسی ہی اطلاعات سامنے آئی ہیں جہاں رواں سال کے پہلے چھ مہینوں کے دوران پناہ کے لیے جمع کرائی جانے والی درخواستوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پناہ کی پالیسیوں میں اصلاحات اور سرحدوں کی سیکیورٹی سخت کرنے کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں یورپی ممالک کے پناہ گاہوں اور نظام پر دباؤ مزید کم ہو جائے گا، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں تارکین وطن کے حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار بھی کر رہی ہیں۔