LIVE
Loading Breaking News...

آبِ ہرمز منصوبہ اور تیل کی قیمتیں، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی

News Image
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان آبِ ہرمز کے لیے سامنے آنے والے منصوبے کے بعد تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے باوجود، خطے میں جاری کشیدگی اور حوثی فورسز کی نقل و حرکت کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعہ کے روز معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ آبِ ہرمز سے متعلق ایک نئے منصوبے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ منصوبہ خطے میں رس رسد کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے جس سے وقتی طور پر سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم، تیل کی قیمتیں اس ہفتے مجموعی طور پر بڑے اضافے کے ساتھ بند ہوئی ہیں کیونکہ خطے میں تناؤ بدستور اپنی جگہ برقرار ہے۔ پچھلے چند دنوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں تیل بردار بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں اور بڑھتی ہوئی سکیورٹی خدشات نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل، گیس اور قرض لینے کی لاگت میں اچانک نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ برینٹ اور امریکی خام تیل کی قیمتیں بھی اس دوران ایک سو ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی تھیں، جو کہ منڈی کی شدید ترین حساسیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایک طرف جہاں آبِ ہرمز کے حوالے سے سفارتی اور انتظامی سطح پر کوششیں جاری ہیں، وہیں دوسری طرف یمن میں حوثی عسکریت پسندوں کی حالیہ نقل و حرکت نے مارکیٹ کے کھلاڑیوں کو مزید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حوثیوں کی اس جارحانہ سرگرمی نے اس بات کے خدشات کو جنم دیا ہے کہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز کسی بھی وقت دوبارہ شدید خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے اور تیل کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ آنے والے دنوں میں بھی جاری رہنے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں توانائی کی منڈی سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے اور کسی بھی وقت ہونے والی معمولی تبدیلی بھی بڑی قیمتوں کے جھٹکوں کا سبب بن سکتی ہے۔ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ سپلائی کے اہم راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور معیشت کو مزید بحران سے بچایا جا سکے۔