World
یورپ میں عجائب گھروں سے آرٹ اور فن پاروں کی چوریوں میں اضافہ
یورپ بھر میں عجائب گھروں سے قیمتی فن پاروں کی چوری کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ آرٹ کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور سکیورٹی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ چور اب انتہائی دیدہ دلیر ہوتے جا رہے ہیں۔
یورپ بھر کے عجائب گھروں اور گیلریوں سے تاریخی اور نایاب فن پاروں کی چوری کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ آرٹ کی دنیا کے سراغ رساں اور سکیورٹی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ جرأت مندانہ انداز میں کارروائیاں کر رہے ہیں اور چند منٹوں میں کروڑوں روپے مالیت کے شاہکار غائب کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں رنوار جیسے عظیم فنکار کے کام کو نشانہ بنانے کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ یورپی عجائب گھروں کے سکیورٹی سسٹمز میں کیا کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کچھ نئے مجرم فلمی انداز سے متاثر ہو کر اس نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں، جس سے دنیا بھر کے ثقافتی ورثے کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ نایاب فن پاروں کی حفاظت کے لیے اپنے حفاظتی پروٹوکولز کا ازسرنو جائزہ لیں۔ آرٹ مارکیٹ میں ان چوری شدہ اشیاء کی غیر قانونی خرید و فروخت نے بھی مجرموں کے حوصلے بلند کیے ہوئے ہیں، کیونکہ کالی دنیا میں ان شاہکاروں کی مانگ بدستور برقرار ہے۔ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیاں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ تمام یورپی ممالک کو مل کر ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا تاکہ تاریخی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے اور اس طرح کے منظم جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔