Technology
پلے اسٹیشن کا نیا وولورین گیم اور اس کی بالغوں کے لیے ریٹنگ
سونی اور انسومنک گیمز کی جانب سے تیار کردہ انتہائی متوقع سپر ہیرو گیم 'وولورین' کو 18 سال سے زائد عمر کی ریٹنگ دی گئی ہے۔ بی بی سی کے ٹام گیرکن نے اس گیم کا جائزہ لیا ہے اور اس کے طویل المدتی کاروباری اثرات پر بحث کی ہے۔
گیمنگ کی دنیا میں پلے اسٹیشن اور معروف ڈویلپر اسٹوڈیو انسومنک گیمز ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ اس بار انہوں نے اپنے انتہائی مقبول اور متوقع سپر ہیرو پروجیکٹ 'وولورین' کے ساتھ ایک بڑا خطرہ مول لیا ہے۔ اس گیم کو باضابطہ طور پر 18 سال سے زائد عمر کے کھلاڑیوں کے لیے مخصوص یعنی 'ایڈلٹ اونلی' ریٹنگ دی گئی ہے، جس نے انڈسٹری میں ایک نئی بحث چھوٹی ہے۔ بی بی سی کے صحافی ٹام گیرکن نے اس گیم اور اس کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر ڈالی ہے کہ آیا یہ خطرہ مالی اور تنقیدی لحاظ سے سودمند ثابت ہو گا یا نہیں۔
انسومنک گیمز اس سے قبل 'اسپائڈر مین' سیریز کی شاندار کامیابی کے بعد دنیا بھر میں ایک مستحکم مقام رکھتے ہیں۔ اسپائڈر مین گیمز کو وسیع تر ناظرین اور فیملی فرینڈلی زمرے میں رکھا گیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ گیمرز اسے کھیل سکیں۔ تاہم، وولورین کے معاملے میں حکمت عملی بالکل مختلف ہے۔ اس کردار کی تاریک، پرتشدد اور پیچیدہ نوعیت کو برقرار رکھتے ہوئے ڈویلپرز نے اسے 18 ریٹنگ کے ساتھ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسٹوڈیو اس کردار کے ساتھ کسی قسم کی سمجھوتہ آرائی کرنے کے موڈ میں نہیں ہے اور وہ اس کے اصل روپ کو گیمنگ اسکرین پر لانا چاہتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اتنے بڑے بجٹ والے سپر ہیرو پروجیکٹ کو بالغوں کے لیے محدود کرنا ایک مالی جوا ہے۔ عام طور پر بڑے سپر ہیرو گیمز دنیا بھر میں کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہوتے ہیں کیونکہ وہ بچوں اور نوعمروں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ لیکن 18 ریٹنگ کی وجہ سے ممکنہ خریداروں کا دائرہ کار محدود ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف، پلے اسٹیشن کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ منفرد قدم گیم کو ایک خاص معیار اور سنجیدہ کھلاڑیوں میں مقبولیت دلائے گا، جو روایتی سپر ہیرو گیمز سے ہٹ کر کچھ نیا تلاش کر رہے ہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا شائقین اس تاریک اور خونریز تجربے کو کس حد تک قبول کرتے ہیں۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہتا ہے تو یہ گیمنگ انڈسٹری میں بالغوں کے لیے مزید سنجیدہ سپر ہیرو گیمز کے دروازے کھول دے گا۔ لیکن اگر یہ ناکام ہوا تو بڑے بجٹ والے پروجیکٹس میں اس قسم کی تخلیقی آزادی پر سوالیہ نشان لگ سکتے ہیں۔ بہرحال، اس وقت تمام تر نگاہیں انسومنک گیمز اور پلے اسٹیشن کی اس نئی حکمت عملی پر مرکوز ہیں۔