World
چینی صدر شی جن پنگ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ
چینی صدر شی جن پنگ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں کے سائے میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ اجلاس کے دوران عالمی توانائی کی سلامتی اور جاری علاقائی تنازعات پر خصوصی غور کیا جائے گا۔
بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ برکس کے سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت روانہ ہو چکے ہیں۔ اس اہم عالمی اجلاس پر اس بار جنگوں اور عالمی سلامتی کے شدید سائے منڈلا رہے ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ اس کانفرنس پر مرکوز ہو گئی ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اس سربراہ اجلاس کے دوران یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں جاری تباہ کن جنگیں سرفہرست ہوں گی، جن کے عالمی معیشت اور خطے پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی رہنما ان پیچیدہ بحرانوں کے پرامن حل تلاش کرنے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے باضابطہ مشاورت کریں گے۔
اجلاس کا ایک اور اہم ایجنڈا عالمی توانائی کی سلامتی اور معاشی استحکام ہوگا۔ حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے دنیا بھر میں توانائی کے ذخائر اور رسد کے راستے متاثر ہوئے ہیں، جس سے تمام ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ برکس کے پلیٹ فارم پر رکن ممالک باہمی تجارت کو فروغ دینے اور توانائی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے لائحہ عمل تیار کریں گے۔ اس کے علاوہ، رکن ممالک کے درمیان مالیاتی تعاون اور باہمی کرنسیوں میں تجارت کے فروغ پر بھی تفصیلی غور متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں برکس کا یہ اجلاس خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر تنازعات شدت اختیار کر چکے ہیں، تاہم ترقی پذیر ممالک کا یہ اتحاد دنیا کو ایک نیا معاشی اور سیاسی متبادل فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چینی صدر کی اس اجلاس میں شرکت اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں آئندہ کے عالمی منظر نامے پر اہم اثرات مرتب کریں گی۔ کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا امکان ہے جس میں امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا۔