LIVE
Loading Breaking News...

زلمے خلیل زاد کا بیان: مستحکم افغانستان امریکہ کے مفاد میں ہے

News Image
سابق امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ واشنگٹن یہ چاہتا ہے کہ افغانستان کو کسی بھی صورت میں امریکہ مخالف گروپوں کا مرکز بننے سے روکا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مستحکم افغانستان خطے اور امریکہ دونوں کے طویل المدتی مفادات کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
امریکہ کے معروف سابق سفارت کار زلمے خلیل زاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد کے تناظر میں ایک مستحکم افغانستان کا قیام براہ راست ریاستہائے متحدہ امریکہ کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی بنیادی پالیسی اور ترجیح یہ ہے کہ افغانستان کو کسی بھی قیمت پر امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروپوں اور عسکریت پسندوں کا محفوظ پناہ گاہ یا مرکز بننے سے روکا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے بغیر بین الاقوامی سلامتی کے اہداف کا حصول ناممکن ہے۔ زلمے خلیل زاد نے مزید کہا کہ امریکی حکومت اور بین برادری کو افغان سرزمین پر موجود سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موثر اور مربوط حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ آئندہ کسی بھی قسم کے بڑے خطرات سے بچا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن میں افغان پالیسی اور خطے میں بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال پر مسلسل بحث جاری ہے، اور امریکہ اپنی طویل مدتی سکیورٹی ترجیحات کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔ افغانستان میں استحکام نہ صرف افغان عوام بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ناگزیر سمجھا جاتا ہے، اور سابق امریکی سفارت کار کا یہ موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن اس خطے کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کر سکتا۔