LIVE
Loading Breaking News...

روسی اور ایرانی صدور کا برکس اجلاس سے قبل امریکی ڈالر پر تنقید

News Image
روسی اور ایرانی صدور نے برکس سربراہ اجلاس سے قبل عالمی معیشت میں امریکی ڈالر کے غلبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تجارت میں مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے برکس سربراہ اجلاس کے انعقاد سے قبل ایک اہم بیان میں عالمی معیشت میں امریکی ڈالر کے تسلط اور غلبے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دونوں رہنماؤں کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے ابھرتے ہوئے معاشی اتحاد برکس کے ممالک آپس میں مالیاتی خودمختاری اور باہمی تجارت کے متبادل طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔ ملاقات اور جاری کردہ بیانات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی تجارت میں امریکی ڈالر پر حد سے زیادہ انحصار دنیا بھر کے ممالک کے لیے معاشی خطرات کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے مالیاتی نظام کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رویے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی معاشی استحکام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ روسی اور ایرانی صدور نے اس بات پر اتفاق کیا کہ برکس پلیٹ فارم کے ذریعے تجارت کے لیے مقامی کرنسیوں کے استعمال کو بڑھایا جائے تاکہ مغربی پابندیوں اور مالیاتی دباؤ کے اثرات کو زائل کیا جا سکے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے یہ اقدام عالمی سطح پر مالیاتی نظام کے متبادل ڈھانچے کی تشکیل کی ایک بڑی کوشش ہے۔