LIVE
Loading Breaking News...

سی آئی اے کی جانب سے اسامہ بن لادن سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری

News Image
امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے نے ستمبر 2005 سے پہلے کے دور کی متعدد خفیہ دستاویزات پبلک کر دی ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق سنہ 1998 میں صدر بل کلنٹن کو بریفنگ دی گئی تھی کہ اسامہ بن لادن واشنگٹن میں امریکی سرزمین پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے نائن الیون کے خوفناک حملوں سے قبل کے برسوں کی کئی اہم اور انتہائی حساس دستاویزات کو ڈی کلاسیفائی کر کے عام کر دیا ہے۔ ان جاری کردہ دستاویزات سے اس دور کی امریکی انٹیلی جنس معلومات اور سیکورٹی خدشات پر نئی روشنی پڑتی ہے جب القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی سرگرمیاں تیزی سے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہی تھیں۔ ان دستاویزات کے مطابق امریکی حکام اس خطرے سے اچھی طرح آگاہ تھے کہ خطرہ کس حد تک سنگین ہو سکتا ہے۔ دستاویزات کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ اگست 1998 میں اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کو ایک خصوصی انٹیلی جنس بریفنگ دی گئی تھی۔ اس بریفنگ میں واضح طور پر انتباہ کیا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن کی ترجیحی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر یعنی خود واشنگٹن کی سرزمین پر حملہ کرے۔ یہ انکشاف اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی سکیورٹی ادارے اسامہ بن لادن کے عزائم سے بخوبی واقف تھے اور ان کے پاس حملوں کے خطرات سے متعلق ابتدائی اشارے موجود تھے۔ سی آئی اے کی جانب سے ان ریکارڈز کی عوامی سطح پر فراہمی کا مقصد تاریخی شفافیت کو فروغ دینا اور محققین کو انٹیلی جنس کے طریقہ کار کا مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزات اس بات کا احاطہ کرتی ہیں کہ کس طرح امریکی انتظامیہ نے اس وقت کے دہشت گردی کے خطرات کا اندازہ لگایا اور بین الاقوامی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات کی منصوبہ بندی کی۔ اگرچہ یہ بریفنگز برسوں پرانی ہیں، تاہم اب ان کی عوامی رسائی تاریخی حقائق کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔